ہم جنس پرست بن کر برطانیہ میں پناہ لینے والے پاکستانیوں کا بھانڈا پھوٹ گیا
فائل فوٹو
لندن: برطانیہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا کی تحقیقات میں ایک ایسے “شیڈو نیٹ ورک” کا انکشاف ہوا ہے جو ہزاروں پاؤنڈز کے عوض تارکین وطن کو ہم جنس پرست ظاہر کر کے سیاسی پناہ دلوانے میں ملوث ہے۔ بی بی سی کی ایک حالیہ انڈر کور انویسٹی گیشن کے مطابق، وکلاء اور مشیروں پر مشتمل یہ گروہ خاص طور پر پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ان تارکین وطن کو نشانہ بناتا ہے جن کے ویزوں کی مدت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورک تارکین وطن کو باقاعدہ تربیت دیتا ہے کہ وہ کس طرح برطانوی حکام کے سامنے خود کو ہم جنس پرست ثابت کریں۔ اس مقصد کے لیےجعلی میڈیکل رپورٹس اور حمایتی خطوط تیار کیے جاتے ہیں۔
ایسی تصاویر اور دستاویزی ثبوت بنائے جاتے ہیں جن سے یہ تاثر ملے کہ مذکورہ شخص اپنے ملک میں ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے خطرے کا شکار ہے۔تارکین وطن کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ چونکہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہم جنس پرستی غیر قانونی ہے، اس لیے وہ جان کے خطرے کا بہانہ بنا کر آسانی سے پناہ حاصل کر سکتے ہیں۔
اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد برطانوی وزارت داخلہ (ہوم آفس) نے سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جو کوئی بھی پناہ کے نظام کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے پایا گیا، اسے قانون کی مکمل گرفت کا سامنا کرنا پڑے گا اور اسے فوری طور پر برطانیہ سے بے دخل کر دیا جائے گا۔
برطانوی قانون ان افراد کو تحفظ فراہم کرتا ہے جنہیں اپنے ملک میں مذہبی، سیاسی یا صنفی بنیادوں پر جان کا خطرہ ہو۔ تاہم، یہ نیٹ ورک ان طلباء، مزدوروں اور سیاحوں سے بھاری فیسیں بٹور رہا ہے جن کے پاس برطانیہ میں قیام کا کوئی قانونی راستہ نہیں بچا، اور انہیں جھوٹ کا سہارا لے کر سسٹم کو دھوکہ دینے پر اکسا رہا ہے۔
رپورٹرز کے مطابق بعض امیگریشن ایڈوائزرز 2,000 سے 5,000 پاؤنڈز تک فیس لے کرجعلی کہانیاں تیار کرتے ہیں،برطانیہ میں سڑکوں پر کھڑے ہو کر اپنے آبائی ملک کی حکومت کے خلاف احتجاج کی تصاویر بنوائی جاتی ہیں تاکہ یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ “اب ملک واپسی پر میری جان کو خطرہ ہے۔
ایسے افراد جو حقیقت میں ملحد یا عیسائی نہیں ہوتے، انہیں “جعلی دہری” بننے کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ مذہبی عقائد کی بنیاد پر پناہ مانگ سکیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے گرفتاری کے جعلی وارنٹ اور پولیس رپورٹس تیار کی جاتی ہیں تاکہ کیس کو مضبوط بنایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منظم فراڈ کی وجہ سے ان حقیقی متاثرین کے کیسز بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جو واقعی اپنی جان بچا کر پناہ کی تلاش میں برطانیہ پہنچتے ہیں۔