مسلمانوں کو ووٹر فہرستوں سے نکال کر بھارتی بنگال میں الیکشن
90 لاکھ ووٹرز،غیر حاضر/متوفی قرار دیے گئے جنہیں اپنی شہریت اور ووٹنگ کا حق ثابت کرنا ہوگا، رپورٹ
فائل فوٹو
کولکتہ: مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی ‘خصوصی مراجعت’ (SIR) نے ریاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں تقریباً 90 لاکھ افراد حقِ رائے دہی سے محروم ہو گئے ہیں، جن میں سے اکثریت کا تعلق مسلم کمیونٹی سے بتایا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کی ایک نمایاں مثال 73 سالہ نبی جان منڈل ہیں، جنہوں نے گزشتہ 50 برسوں میں ہر الیکشن میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ تاہم، اس بار ان کا نام فہرست سے غائب ہے۔ نبی جان کا قصور صرف اتنا تھا کہ ان کے ووٹر کارڈ پر ان کا عرفی نام ‘نبی جان’ درج تھا، جبکہ دیگر دستاویزات (آدھار اور راشن کارڈ) پر ان کا نام ‘نبیرول’ درج تھا۔ جہاں ان کے خاندان کے تمام افراد فہرست میں شامل ہیں، وہیں انہیں ‘نام کی تبدیلی’ کی بنیاد پر باہر کر دیا گیا ہے۔
ریاست کے 7.6 کروڑ ووٹرز میں سے تقریباً 12 فیصد اس عمل کی زد میں آئے ہیں۔ 90 لاکھ ووٹرز،غیر حاضر/متوفی قرار دیے گئے جنہیں اپنی شہریت اور ووٹنگ کا حق ثابت کرنا ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق، ووٹر لسٹوں سے نام نکالنے کا عمل ان اضلاع میں زیادہ شدت سے دیکھا گیا جہاں مسلم آبادی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مرشد آباد میں 4 لاکھ 60 ہزار نام خارج، شمالی 24 پرگنہ میں 3 لاکھ 30 ہزار نام خارج، مالدہ میں 2 لاکھ 40 ہزار نام خارج کیے گئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اضلاع ریاست کے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اس بڑے پیمانے پر اخراج سے انتخابی توازن بگڑ سکتا ہے۔
متاثرہ افراد کے لیے خصوصی ٹرائبیونلز سے رجوع کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے، کیونکہ 23 اور 29 اپریل کو ہونے والی پولنگ سے قبل اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کی سماعت ناممکن نظر آتی ہے۔
حال ہی میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے واضح کیا ہے کہ جن کے کیسز ٹرائبیونلز میں زیر التوا ہیں، انہیں فی الحال ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تاہم، عدالت نے الیکشن کمیشن کو ‘سپلیمنٹری ووٹر لسٹ’ جاری کرنے کا اختیار دیا ہے، جو متاثرہ شہریوں کے لیے امید کی آخری کرن ہو سکتی ہے۔
میں شدید تکلیف میں ہوں،” نبی جان کہتی ہیں، جو اپنی شناخت اور حق کے لیے پریشان ہیں۔ یہ صرف ایک خاتون کی کہانی نہیں بلکہ لاکھوں بنگالیوں کا المیہ ہے جو اپنی ہی ریاست میں ‘بے وطن’ یا ‘بے ووٹ’ ہونے کے خوف سے دوچار ہیں۔
واجع رہے مغربی بنگال میں پولنگ 23 اپریل اور 29 اپریل ہو گی جبکہ نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائے گا۔