بھارت میں بھی جین زی سیاسی تبدیلی کی با ت کرنے لگی
سوشل میڈیا پرنیپال کے نئے اور نوجوان وزیراعظم کوبطورمثال پیش کیا جارہاہے
سوشل میڈیا پر بھارتی جین زی کی جانب سے تبدیلی کی آوازیں تیزی سے سامنے آ رہی ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور ریلز میں نوجوانوں کو سیاست میں فعال کردار ادا کرنے اور نئی قیادت کو آگے لانے کی اپیل کی جا رہی ہے۔
ان ویڈیوز میں خاص طور پر نیپال کے نئےاور نوجوان سیاسی چہرے بالن شاہ کو بطور مثال پیش کیا جا رہا ہے جنہوں نے گذشتہ سال وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تھا۔ ریلز میں ان کی تقاریر، عوامی سرگرمیوں اور شہری اقدامات کے کلپس شامل ہوتے ہیں، جنہیں ایک مثبت اور متاثر کن انداز میں دکھایا جاتا ہے۔
ہیش ٹیگز کے ساتھ شیئر ہونے والے اس مواد کو کروڑوں ویوز اور لاکھوں ری ایکشنز مل رہے ہیں۔ یہ ویڈیوز زیادہ تر “کال ٹو ایکشن”جیسی ہیں، جن میں نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ وہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے آگے آئیں۔
سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا کہنا ہے کہ بھارت میں نفرت، مذہبی تقسیم، کرپشن اور ذات پات سے بالاتر سیاست کی ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں بالن شاہ کی مثال دہرائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ان ویڈیوز میں بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت، خصوصاً نریندر مودی کے طویل اقتدار کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے، اور یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ نوجوان نسل اب متبادل قیادت کی بات کر رہی ہے۔
یہ رجحان صرف ایک یا دو ویڈیوز تک محدود نہیں بلکہ ایک باقاعدہ سوشل میڈیا ٹرینڈ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس میں متعدد انفلوئنسرز مسلسل مواد تخلیق کر رہے ہیں۔ بعض ریلز ایک کروڑ سے زائد ویوز بھی حاصل کر چکی ہیں۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارت میں سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی سیاسی شمولیت اور نئی قیادت کے حوالے سے گفتگو میں تیزی آ رہی ہے، اور جین زی اپنی آواز منظم انداز میں سامنے لا رہی ہے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی طرح بھارت میں بھی بی جے پی کا اقتدار ایک دہائی سے زیادہ طویل ہوچکاہے اور نریندرمودی مسلسل تیسری باروزیراعظم ہیں۔