افغان طالبان کے 20 فیصد رہنما بم حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہیں،رپورٹ
طالبان کی 33 رکنی کابینہ کے کئی ارکان اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں
کابل۔ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ میں افغان طالبان کے حکومتی ڈھانچے سے متعلق اہم دعوے سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طالبان سے وابستہ بعض رہنماؤں پر ماضی میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی سے متعلق الزامات عائد کیے گئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے 20 فیصد سے زائد رہنما بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔
دوسری جانب افغان میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی 33 رکنی کابینہ کے کئی ارکان اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں، جن پر سفری پابندیاں، اثاثوں کا منجمد ہونا اور اسلحے کی خریداری پر قدغنیں عائد ہیں۔
رپورٹس کے مطابق عبوری حکومت کے بعض اہم عہدیداروں کے نام بھی ان فہرستوں میں شامل بتائے جاتے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر طالبان سے وابستہ متعدد افراد اور چند ادارے عالمی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی رپورٹس خطے کی سیاسی صورتحال اور بین الاقوامی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، تاہم حتمی مؤقف کے لیے مستند ذرائع سے تصدیق کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔