مذاکرات بغیر نتیجے کے ختم اورغیرمعینہ فائربندی :کیا ایران جنگ”ڈرا”ہوگئی؟
واشنگٹن جنگ کی دلدل سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ تہران
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔مذاکرات کسی فیصلے کے بغیر ختم ہوگئے۔تاہم جنگ بندی بھی غیر معینہ مدت کے modeپر ہے،اور امکانات یہی ہیں کہ یہ غیر معینہ جنگ بندی ہی مستقل ہوچکی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کو حتمی قراردے دیا۔ٹیلی گرام چینل پر بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنا اور اس کے ڈیٹرنٹ اثرات کا سایہ امریکہ اور خطے میں اس کی حمایت کرنے والوں پر ڈالنا، اسلامی ایران کی حتمی حکمت عملی ہے۔دوسری طرف ، ایران میں تقسیم کامفروضہ اب،ممکنہ طورپر، امریکہ کی حکمت عملی کامحور ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں کا اسلام آباد، پاکستان جانے کا پروگرام اس لیے منسوخ کر دیا ہے کیونکہ ایرانی قیادت میںبہت زیادہ اندرونی لڑائی ہے۔میں نے اپنے نمائندوں کا اسلام آباد، پاکستان جانے کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ سفر پر بہت زیادہ وقت ضائع ہو رہا تھا، بہت زیادہ کام۔اس کے علاوہ ان کی قیادت میں بہت بڑی اندرونی لڑائی اور کنفیوژن ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کون ذمہ دار ہے۔
امریکہ آنے والے دنوں میں ایران کے اندر حالات’ سازگار’ ہونے کا انتظار کرے گااور تب تک جنگ دوبارہ شروع کرنا اس کے پروگرام میں شامل نہیں۔سی این این اور ایگزیوس کے مطابق ، ٹرمپ کا کہناتھاکہ وفد کے دورے کی منسوخی کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کر دے گا، صدر ٹرمپ نے مزید کہاکہ ہم نے اس بارے میں ابھی سوچا بھی نہیں۔
ٹرمپ نے ”فاکس نیوز ”کو بتایاکہ وہ (ایران)جب چاہیں ہمیں کال کر سکتے ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے پاکستان کے اسلام آباد میں اپنے دو اعلی مشیروں کے سفر کی منسوخی کا مطلب جنگ کے دوبارہ شروع ہونے سے نہیں ۔
ان سے پوچھا گیا تھاکہ کیا خصوصی ایلچی سٹیون وِٹکوف اور جیرڈکشنر کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ نہ کرنے کو جنگ کی طرف ایک قدم سمجھا جائے۔
22اپریل کو جنگ بندی میں توسیع کا اعلان بھی ٹرمپ نے بغیر کسی ٹائم فریم کے کیا تھا۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ایران کے پاس کون سے پتے ہیں ، ایرانی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ واشنگٹن جنگ کی دلدل سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ دشمن ایسی راہ تلاش کر رہا ہے جس سے وہ باعزت طریقے سے جنگ کے دلدل سے نکل سکے۔ ساتھ ہی یہ بھی اشارہ دیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایرانی مطالبات منوانے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے۔
ایرانی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو مسلح افواج کے انتظام میں لانا جنگ کی اہم کامیابیوں میں سے ایک ہے ۔انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دبا ئوکے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ان کے بقول آبنائے ہرمز ایران کے دشمنوں پر کنٹرول حاصل کرنے اور اپنے مطالبات منوانے کا ایک ذریعہ ہے۔
آبنائے ہرمز کوایران پتے کے طورپر استعمال کرے گا ، اس کے علاوہ جنگ سے جان چھڑانے کے راستے کی امریکی ‘تلاش ‘کو بھی تہران لیوریج بنانے کا خواہاں نظر آتاہے۔
جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق،امریکی صدر نے” فاکس نیوز”کے ساتھ انٹرویو میں مذاکرات کے لیے زیادہ وزن ایران پر ڈالا اور کہاکہ ہمارے پاس اپنے سارے پتے موجود ہیں۔ وہ جب چاہیں، ہمیں کال کر سکتے ہیں۔
حالات وواقعات یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ امریکہ کو جنگ بندی ختم کرنے میں دلچسپی نہیں۔اگر ایرانی مذاکرات پر آتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ جیسا چلتاہے چلنے دیں۔ممکن ہے جلد ہی امریکہ آبنائے ہرمزکا محاصرہ بھی اٹھاکر کوچ کرجائے ، اور بحری راہداری کوبھی اس کے حال پر چھوڑدے۔یہ صورت حال گوکہ مفروضہ ہے لیکن ٹرمپ کے مزاج کو دیکھتے ہوئے ناممکن بھی نہیں۔بقول ایران، امریکہ جس دلدل سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈرہاہے ،وہ اسے مل چکا ہو۔