میئرنیویارک ظہران ممدانی نے برطانوی بادشاہ سے ملاقات میں کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ کیا؟
شاہ برطانیہ چارلس اور ملکہ کمیلا چارروزہ سرکاری دورے پر امریکہ میں ہیں
تصویر: وکی پیڈیا
میئر نیویارک ظہران ممدانی نے برطانوی بادشاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ’’ کوہ نور‘‘ہیرابھارت کے حوالے کیا جائے۔تاہم یہ بات انہوں نے صرف میڈیا سے گفتگومیں کہی۔
شاہ برطانیہ چارلس اور ملکہ کمیلا کے چارروزہ سرکاری دورہ امریکہ کے تیسرےروز نیویارک میں ان کی ملاقا ت نائن الیون میموریل پر ایک یادگاری تقریب کے دوران میئر ظہران ممدانی سے ہوئی۔
ملاقات سے قبل ایک پریس کانفرنس میں جب ایک صحافی نے ممدانی سے پوچھا کہ وہ بادشاہ سے نیویارک کی نمائندگی اورنائن الیون میں جانیں دینے والے لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے علاوہ کیا کہنا چاہیں گے تو ممدانی نے جواب دیا کہ اگر میں بادشاہ سے الگ سے بات کروں تو میں انہیں کوہِ نور ہیرا واپس کرنے کا کہوں گا۔
Journalist: King Charles will be in New York. What will you say to him?
Mamdani: I would highly encourage him to return the Kohinoor Diamond if I were to speak with him pic.twitter.com/J0JhQ4syqf
— Shashank Mattoo (@MattooShashank) April 29, 2026
مغربی میڈیا کے مطابق یہ معلوم نہیں کہ ممدانی نے بادشاہ سے ملاقات کے دوران یہ بات واقعی کہی بھی یا نہیں۔ ان کے دفتر نے اس کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کر دیا ہے، اور بکنگھم پیلس نے بھی اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر فوری ردعمل سامنے آیا۔ بہت سے لوگوں نے ممدانی کی تعریف کی، کچھ نے کہا کہ انہیں نیویارک کے اپنے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
مبصرین کا کہناہے کہ ممدانی کی اطلاع کیلئےعرض ہے برطانوی فوجوں نے 1849 میں اس وقت کی سکھ سلطنت کے دارالحکومت لاہور شہر میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بیٹے 10سالہ بیٹے مہاراجہ دلیپ سنگھ کے تاج سے چھین کر یہ ہیرا چوری کیا تھا ۔اس لیے یہ ہیرا بھارت نہیں پاکستان کی ملکیت ہے۔ ممدانی کے والدین انڈیا سے ہیں تو اس کا ہرگز مطلب نہیں کوہ نور بھی ممدانی کا ہے۔
برطانوی میڈیانے لکھاہے کہ ہیرا موجودہ پاکستان کے علاقے سے لیا گیا تھا اور 1849 میں لاہور کے معاہدے کے بعد ملکہ وکٹوریہ کو پیش کیا گیا تھا۔ جنوبی ایشیا میں بہت سے لوگ اسے نوآبادیاتی لوٹ مار کی سب سے نمایاں علامتوں میں سے ایک سمجھتے ہیں۔ بھارت بار بار اس کی واپسی کا مطالبہ کر چکا ہے، اگرچہ پاکستان، ایران اور افغانستان نے بھی اس پر دعویٰ کیا ہے۔
بھارت میں بہت سے لوگ ممدانی کی تعریف کر رہے ہیں، جنہوں نے کہا کہ وہ بادشاہ چارلس سے کوہِ نور ہیرا واپس کرنے کی درخواست کریں گے۔ تاہم، سب اس خیال سے خوش نہیں تھے کہ نیویارک کا میئر ایسی اپیل کرے۔کچھ ناقدین نے ممدانی کے بیان کو غیر سفارتی قرار دیا۔
کوہِ نور، کا مطلب “روشنی کا پہاڑ” ہے، یہ ایک مشہور ہیرا ہے جس کا وزن 105 اعشاریہ 6 قیراط ہے۔ 1849 میں دوسری اینگلو سکھ جنگ کے بعد لاہور کے معاہدے کے تحت برطانویوں نے اسے پنجاب کے آخری حکمران مہاراجہ دليپ سنگھ سے لے لیا۔ اسے ملکہ وکٹوریہ کو تحفے میں دیا گیا اور اب یہ برطانوی تاج کے جواہرات کا حصہ ہے۔ بھارت، پاکستان، ایران اور افغانستان اس پر دعویٰ کرتے ہیں اور یہ نوآبادیاتی دور کی لوٹ مار کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا ہے۔