شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم کالعدم قرار

کسی بھی قانون میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کی واضح گنجائش موجود نہیں۔ سندھ ہائیکورٹ

               
  May 2, 2026 · قومی

سندھ ہائیکورٹ نے ماتحت عدالت کی جانب سے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے اور اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔
جسٹس محمد حسن اکبر نے مالی تنازع سے متعلق کیس میں دائر درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ شناختی کارڈ بلاک کرنا بنیادی حقوق کے منافی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی بھی قانون میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کی واضح گنجائش موجود نہیں، جبکہ سپریم کورٹ بھی اس حوالے سے واضح کر چکی ہے کہ ایسی کوئی قانونی شق موجود نہیں۔
حکمنامے میں مزید کہا گیا کہ ضابطہ فوجداری قوانین کے تحت بھی شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی بنیاد نہیں بنتی، جبکہ نادرا آرڈیننس 2000 کے تحت بھی اس عمل کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔
عدالت کے مطابق شناختی کارڈ بلاک ہونے سے شہری کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے، جس سے تعلیم، صحت، روزگار اور بینکاری سہولیات تک رسائی متاثر ہوتی ہے۔
یہ درخواست شہری محمد راشد کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں انہوں نے سینیئر سول جج جنوبی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔