توانائی بحران میں بڑی تیل کمپنیوں کا ہرسیکنڈ پر منافع ناقابل یقین

شیورون، شیل، بی پی، کونوکو فلیپس، ایکسون موبائل، اور ٹوٹل انرجیزشامل

               
  May 2, 2026 · امت خاص

 

ایران جنگ سے پیداشدہ بحران اورآبنائے ہرمزکی بندش میں بڑی تیل کمپنیاں ناقابل یقین منافع کمارہی ہیں۔یہ ہرسیکنڈمیں 3 ہزارڈالر ہے۔آکسفیم انٹرنیشنل کا تخمینہ ہے کہ،عالمی سطح پرشہریوں کو گھریلو توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور ایندھن کی قلت کے بالکل برعکس دنیا کی چھ سب سے بڑی فوسل فیول کمپنیاں 2026 میں 94 ارب ڈالر کا منافع کمائیں گی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں روزانہ 37 ملین ڈالر اضافے کے برابر ہے۔

اس رپورٹ نے قابل تجدید توانائی کے لیے فنڈز فراہم کرنے اور کمزور برادریوں کی مدد کے لیے ونڈ فال ٹیکس لگانے کے مطالبات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

آکسفیم انٹرنیشنل کی تازہ ترین تحقیق کے مطابق، چھ بڑی فوسل فیول کمپنیاںشیورون، شیل، بی پی، کونوکو فلیپس، ایکسون موبائل، اور ٹوٹل انرجیز 2026 میں مجموعی طور پر 94 ارب ڈالر کا منافع کما لیں گی، جو ہر سیکنڈ میں2 ہزار 967ڈالر کے برابر ہے۔

آکسفیم اس بے پناہ منافع کا موازنہ اس امر سے کرتی ہے کہ یہ رقم تقریباً 5 کروڑ افریقیوں کو سولر پاور (شمسی توانائی) فراہم کرنے کے قابل ہے۔

تیل کی کمپنیاں آسمان چھوتی قیمتوں سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، لیکن امریکہ اور دیگر ممالک میں گھرانے ریکارڈ سطح کی ایندھن کی قیمتوں، بجلی کی مہنگی بلوں اور مہنگائی سے دوچار ہیں۔ امریکہ کی کم خرچ والی ایئر لائنز نے جیٹ فیول کی قیمتوں میں 88 فیصد اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے حکومت سے2اعشاریہ 5ارب ڈالر کی امداد طلب کی ہے، کچھ ایئر لائنز دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

روسی معیشت کو بھی اس تنازع سے فائدہ پہنچ رہاہے۔ تیل اور کھادوں کی بلند قیمتوں کی وجہ سے کریملن کو اضافی رقم مل رہی ہے۔انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے بتایا کہ روس کی توانائی آمدنی مارچ میں تقریباً دگنی ہو کر 19 ارب ڈالر ہو گئی ہے، جو فروری میں9اعشاریہ 75ارب ڈالر تھی۔

اسلحہ ساز کمپنیاں بھی بڑا فائدہ اٹھانے والی ہیں۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ عالمی فوجی اخراجات پچھلے سال2اعشاریہ 9 فیصد بڑھ کر 2025 میں2اعشاریہ 19ٹریلین ڈالر ہو گئے۔

موجودہ بحرانوں کی وسعت اور بہت سی ریاستوں کے طویل مدتی فوجی اخراجات کے اہداف کو دیکھتے ہوئے، یہ اضافہ 2026 اور اس کے بعد بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔تاہم یہ صورت حال دفاع کے شعبے کو بھی طویل مدت میں کامیاب سمجھنے کی ضمانت نہیں۔ پچھلے کچھ سال میں مسلسل اضافے کے بعد دنیا کی کچھ سب سے بڑی دفاعی کمپنیوں کے شیئرز پچھلے چند مہینوں میں دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی جزوی وجہ امریکہ میں ایران کی جنگ کی غیر مقبولیت، مستقبل میں پالیسی بدلنے کی توقع، اوریہ غیر یقینی صورتحال ہے کہ آیا کانگریس ٹرمپ انتظامیہ کے دفاع بجٹ کی منظوری دے گی یا نہیں۔