ون کانسٹیٹیوشن معاملہ:سی ڈی اے نے اسلام آباد میں لینڈ ریکوری آپریشنز روک دیے

وزیراعظم کی مداخلت کے بعد فیصلہ، امیر اور غریب کے لیے یکساں قانون پر سوالات اٹھ گئے

               
  May 2, 2026 · امت خاص

تصویر: سوشل میڈیا

اسلام آباد میں ون کانسٹیٹیوشن اسکائی اسکریپر کے خلاف کارروائی رکوانے کے بعد کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے شہر بھر میں سرکاری زمین غیر قانونی تعمیرات گرانے کے تمام آپریشنز عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔ سی ڈی اےنے غیر رسمی آبادیوں کے خلاف جاری آپریشنز روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ون کانسٹیٹیوشن عمارت کے خلاف کارروائی رکوانے پر شدید ردعمل ہوا۔عدالتی حکم پر سی ڈی اے اور پولیس نے کانسٹیٹیوشن ایونیو پر واقع ٹوئن ٹاورز کو خالی کرانے کے لیے کارروائی شروع کی تھی، تاہم وزیراعظم کی مداخلت کے بعد آپریشن روک دیا گیا۔

وزیراعظم نے متاثرہ رہائشیوں کا مؤقف سننے کے بعد مسئلے کے حل کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید دیکھنے میں آئی، جہاں سی ڈی اے اور وزارت داخلہ کو خاص طور پر باری امام اور سیدپور جیسے علاقوں میں غریب بستیوں کے خلاف کارروائی پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہدایت دی کہ جب تک ون کانسٹیٹیوشن کا معاملہ حل نہیں ہو جاتا، اس وقت تک سرکاری زمین واگزار گرانے کے کسی بھی آپریشن کا کوئی جواز نہیں۔

جمعہ کی رات وزارت داخلہ کی جانب سے سی ڈی اے کو تمام کارروائیاں روکنے کی ہدایت جاری کی گئی۔سی ڈی اے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر امیر طبقے کے خلاف کارروائی ممکن نہیں تو غریبوں کے خلاف آپریشن کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا، اسی لیے تمام کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے پہلے ہی غیر رسمی آبادیوں کے خلاف کارروائیوں پر تنقید کی زد میں تھا، ون کانسٹیٹیوشن عمارت کو خالی نہ کروا پانا اس تنقید میں مزید اضافہ کا باعث بنا۔

ذرائع کے مطابق اس عمارت کے بعض فلیٹس بااثر افراد کی ملکیت ہیں، جن کے خریداری ریکارڈ یا تو موجود نہیں یا نامکمل ہیں۔اس سے قبل وزیراعظم نے اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کو ہدایت دی تھی کہ حتمی فیصلے تک کوئی کارروائی نہ کی جائے، اور ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔