پاکستان نے گدھے کا گوشت برآمد کرنے کی جلدی میں اجازت کیوں دی۔ دلچسپ کہانی
چینی کمپنی کی طرف سے سرگرمیاں بند کرنے کے اعلان پر کابینہ نے فوری اجازت دیدی
پاکستان نے ہفتے کے روز ایک چینی کمپنی کو گدھے کے گوشت کی برآمد کی فوری اجازت دے دی، جس نے طویل تاخیر کے باعث اپنی سرگرمیاں بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس صورتحال نے دیگر چینی سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری سے پہلے سوچنے کا مشورہ دینے پر مجبور کر دیا۔
یہ معاملہ وزیرِ اعظم کے دفتر کی مداخلت کے بعد حل ہوا۔ جمعہ کے روز شروع ہونے والے اس عمل کے نتیجے میں چند ہی گھنٹوں میں وفاقی کابینہ نے منظوری دے دی اور محکمہ حیوانی قرنطینہ نے بھی اجازت جاری کر دی۔ یوں وہ فائل جو مہینوں سے زیر التوا تھی، جمعہ کی شام سے ہفتے کی رات تک فوری طور پر منظور کر لی گئی۔
حکام نے تاہم چینی کمپنی پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے برآمد کے طے شدہ معیار، خصوصاً جانوروں کی افزائش اور بین الاقوامی معیار کے تقاضے پورے نہیں کیے۔
یہ معاملہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ، وزارتِ خزانہ اور کابینہ ڈویژن میں کئی عرصے سے رکا ہوا تھا، مگر اچانک اس وقت تیزی آئی جب کمپنی نے سخت بیان جاری کیا۔ وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ نے مسئلہ حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر یہ معاملہ نہ سلجھتا تو وزیراعظم شہبازشریف کے آئندہ دورۂ چین اور کاروباری کانفرنس پر بھی اثر پڑ سکتا تھا۔
ذرائع کے مطابق کمپنی اس وقت برہم ہو گئی جب کابینہ ڈویژن نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 27 اپریل کے فیصلے کو 29 اپریل کی کابینہ میٹنگ میں منظوری کے لیے پیش نہ کیا۔ بعد ازاں دیگر فیصلے منظور کر لیے گئے۔
کمپنی نے غیر معمولی بیان میں کہا کہ یکم مئی 2026 کو وہ پاکستان اور چین میں اپنے ملازمین کو آگاہ کر رہی ہے کہ غیر مارکیٹ عوامل اور آپریشنل رکاوٹوں کے باعث وہ معمول کی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتی اور فیکٹری بند کرنے پر مجبور ہے۔
کمپنی نے ممکنہ سرمایہ کاروں کو بھی خبردار کیا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے پہلے پالیسی کے نفاذ میں خلا اور ادارہ جاتی غیر یقینی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔
یہ کمپنی گوادر نارتھ فری زون میں کام کر رہی ہے اور زرعی و حیوانی مصنوعات چین برآمد کرتی ہے، جہاں اس کا ایک سلاٹر ہاؤس بھی موجود ہے۔
حکام کے مطابق اس تمام صورتحال کے بعد حکومت نے فوری طور پر تمام منظوریوں کا عمل مکمل کیا اور کابینہ نے ای سی سی کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ اس فیصلے میں گوادر سے گدھے کے گوشت اور کھال کی برآمد کے مسائل حل کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق چینی کسٹمز نے جنوری 2026 سے پہلے تیار کیے گئے گوشت کی درآمد کی اجازت نہیں دی تھی، جبکہ معیار اور جانوروں کی افزائش سے متعلق بھی خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔