ایران میں 2022 کے احتجاج میں سیکورٹی اہلکار کے قتل میں ملوث شخص کو پھانسی
سیکیورٹی اہلکار عباس فاطمیہ کے قتل کا ایک اہم ذمہ دار قرار دیا گیا۔
ایران نے ایک ایسے شخص کو سزائے موت دے دی ہے جسے 2022 کے احتجاج کے دوران ایک سیکیورٹی اہلکار کے قتل میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 2025 کے آخر میں اس کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔
ملزم کی شناخت مہراب عبداللہ زادہ کے نام سے ہوئی ہے، جسے 2022 میں ملک گیر مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اہلکار عباس فاطمیہ کے قتل کا ایک اہم ذمہ دار قرار دیا گیا۔ یہ مظاہرے ایک نوجوان خاتون مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے۔
ایرانی عدلیہ کے خبر رساں ادارے میزان کے مطابق ملزم نے سیکیورٹی اہلکار پر حملے کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ عبداللہ زادہ سے یہ اعتراف جبری طور پر تشدد کے ذریعے کروایا گیا۔