وائٹ ہائوس کے قریب جے ڈی وینس کےمحافظوں پر فائرنگ۔جوابی کارروائی میں حملہ آور ہلاک
کچھ لمحہ قبل امریکی نائب صدر کا قافلہ وہاں سے گزرا تھا۔میڈیارپورٹس
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ ہوئی ہے جوابی کارروائی میں ملزم ہلاک ہو گیا۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ وائٹ ہاؤس کے قریب اس وقت پیش آیا جب کچھ لمحہ قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا قافلہ وہاں سے گزرا تھا۔
فائرنگ جے ڈی وینس کی سیکیورٹی پر مامور خفیہ سروس کے اہلکاروں پر واشنگٹن یادگار کے قریب کی گئی۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ خفیہ اہلکاروں نے فوری جوابی کر کے ایک مشتبہ مسلح شخص کو زخمی کر کے گرفتار کر لیا، دوسرا ملزم ہلاک ہو گیا۔
امریکی سیکرٹ سروس نے کہا ہے کہ اس کے افسران نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک مسلح اور مشکوک شخص کو دیکھا جس نے سیکرٹ سروس کے اہل کاروں پر فائرنگ کی اور فرار ہو گیا تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے نے اسے گولی مار دی، واقعے کے بعد کچھ دیر کے لیے وائٹ ہاؤس میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔
سیکرٹ سروس کے ڈپٹی ڈائریکٹر میتھیو کوئن کے مطابق واقعے سے کچھ ہی دیر پہلے نائب صدر جے ڈی وینس کی گاڑیوں کا قافلہ اسی علاقے سے گزرا تھا۔ تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ مشکوک شخص جے ڈی وینس کے قافلے تک پہنچنا چاہتا تھا یا نہیں۔
الجزیرہ کے مطابق ،میتھیو نے بتایا کہ فائرنگ اُس وقت ہوئی جب سادہ لباس میں مامور ایجنٹس نے ایک مشکوک شخص کو دیکھاجس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ مسلح ہے۔ ایجنٹس نے کچھ دیر تک اس شخص کا تعاقب کرنے کے بعد بیک اپ طلب کیا۔ جب یونیفارم میں سیکرٹ سروس کے افسران اس کے قریب پہنچے تو ملزم بھاگنے کی کوشش کرنے لگا اور فائرنگ شروع کر دی۔ ایجنٹس نے جواب میں گولیاں چلائیں جس سے ملزم زخمی ہو گیا، اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ملزم سے ایک ہتھیار بھی برآمد کیا گیا۔
فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک بچہ بھی زخمی ہوا، تاہم اس کی چوٹیں جان لیوا نہیں ۔ یہ واضح نہیں کہ بچے پر کس نے گولی چلائی، البتہ کوئن نے کہا کہ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ بچہ ملزم کی گولی لگنے سے زخمی ہوا۔کوئن نے کہا کہ سیکرٹ سروس یہ معلوم کرے گی کہ آیا نشانہ باز کا ہدف صدر ٹرمپ تھے یا نہیں۔
سیکرٹ سروس نے یہ بھی بتایا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ملزم کا ارادہ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کے موٹر کیڈ پر حملہ کرنے کا تھا، جو اس واقعے سے تھوڑی دیر پہلے اس علاقے سے گزرا تھا۔