ایرانی بحریہ آبنائے ہرمز میں گوریلا جنگ کیسے لڑ رہی ہے؟

پاسداران انقلاب کی طرف سےاس کا استعمال کئی دہائیوں پرانا ہے،امریکی میڈیا

May 10, 2026 · امت خاص

 

امریکی میڈیانے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی اصل بحریہ محفوظ اور آبنائے ہرمزمیں گوریلا جنگ لڑرہی ہے۔نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایران کی روایتی بحریہ کے جنگی جہازوں کو بڑے پیمانے پر تباہ کیا جا سکتا ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کبھی اس کی حقیقی سمندری طاقت نہیں تھی۔

آبنائے ہرمز میں جہازرانی روکنے کی صلاحیت دراصل سستے اور غیر روایتی جنگی نظاموں کی متعدد تہوں پر منحصر ہے ۔یہ ڈرونز، بارودی سرنگیں اور چھوٹی حملہ آور کشتیوں کا بیڑاہے جس کا پتالگانا روایتی بحری اثاثوں کی نسبت مشکل ہے۔

فوجی تجزیہ کاروں نے انہیں ’’مچھر بیڑا‘‘ (Mosquito Fleet) کا نام دیا ہے۔پاسداران انقلاب کی یہ چھوٹی کشتیاں، اور خاص طور پر ان کشتیوں سے داغے جانے والے میزائل،توپوں کے گولے اور دیگر ہتھیار، امریکہ کی فوج کے لیے ایک بہت بڑا اسٹریٹجک چیلنج ہیں۔

یہ چھوٹی کشتیاں اور ڈرون کشتیاں لو پروفائل اور پانی کی سطح کے قریب ہوتی ہیں، اس لیے ریڈار سسٹم اکثر انہیں بہت دیر سے پکڑپاتے ہیں۔ ان خطرات کو مؤثر طریقے سے ٹریک کرنے کے لیے امریکہ کو ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز استعمال کرنے پڑتے ہیں۔

یہ بنیادی طور پر پانی پر گوریلا جنگ ہے، اور جغرافیہ بھی ایران کے حق میں ہے کیونکہ سٹریٹ آف ہرمز کی ’’ پکٹنگ ‘‘سے گزرنے کے سوا کوئی متبادل راستہ نہیں۔

تھنک ٹینکرائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس (RUSI) کے سینئر ریسرچ فیلو سدھارتھ کوشل کے مطابق،پاسداران انقلاب کی طرف سے چھوٹی کشتیوں کا استعمال کئی دہائیوں پرانا ہے، خاص طور پر 1988 میں امریکی فوج نے خلیج فارس میں آپریشنز کے دوران ایران کی روایتی بحریہ کو تباہ کردیا تھا۔ اس کے بعد ایرانی بحریہ ہمیشہ ایک پریڈ گراؤنڈ فورس رہی، دوسری طرف غیر متناسب اثاثوں پر مشتمل متبادل ایرانی بحریہ، ہمیشہ زیادہ اسٹریٹجک طور پر اہم اثاثہ رہی۔

واضح رہے کہ عراق سے جنگ کے دوران جب ایرانی بحریہ نے خلیج فارس میں بارودی سرنگیں بچھائی تھیں تو ایک امریکی بحری بیڑے کو نقصان پہنچا جس پر امریکہ نےOperation Praying Mantis کے ذریعے ایک بہت بڑا حملہ کرکے ایران کی بحریہ کو بری طرح تباہ کردیا تھا۔

متبادل ایرانی بحریہ کے لیے سستی لاگت سے جہازڈیزائن اور تیارکیے جاتے ہیں جن کی جگہ آسانی سے نئے جہازلے سکتے ہیں۔ عام شہری اور ماہی گیرکشتیاں بھی اس بیڑے کا حصہ بنائی جاتی ہیں۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ ان میں چھوٹیMidget آب دوزیں بھی شامل ہیں جو کم گہرے پانی میں چھپ جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ ایران کی متعدد تہوں والی حکمت عملی ہے ۔یہ اینٹی شپ میزائل داغنے والے لانچرزہیں جنہیں جنوبی ساحل پر سیکڑوں میل کے پہاڑی اور میدانی علاقے میں چھپایا جاتاہے۔ طویل خلیجی ساحل کی وجہ سے یہ میزائل بیٹریاں ختم کرنا مشکل ہوتاہے،لیکن ان کی مددسے ایران آبنائے ہرمزسے آگے تک جاکرحملے کرسکتاہے۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے میری ٹائم سیکیورٹی کے سینئر فیلو نک چائلڈز کا کہناہے کہ یہ ایرانی صلاحیتوں کا وہ ملغوبہ اور پیچیدگی ہے جو دشمن کے لیے نمایاں مشکلات پیدا کرتی ہے۔ مچھر بیڑے کا مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ کی فوج ان چھوٹے بحری ہتھیاروں کو آسانی سے ڈھونڈنہیں سکتی۔کتنی بھی سخت نگرانی ہو، کوئی نہ کوئی کشتی بچ کر گزرہی جاتی ہے۔

یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سنٹر (UKMTO) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جنگ شروع ہونے کے بعد سے سٹریٹ آف ہرمز اور خلیج فارس میں 26 جہاز ایرانی حملوں کا شکار ہو چکے ہیں۔

تجزیہ کارکہتے ہیں کہ دراصل ایران کو ، زیادہ اسٹریٹجک سطح پر، بہت زیادہ کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف اتنی کہ ہرمز کی راہداری میں سفر غیر محفوظ لگے۔