جیکو جے 7 کی تاؤ بٹ میں خرابی، مرمت کا 36 لاکھ روپے بن گیا
شمالی علاقوں میں الیکٹرک گاڑی بند ہونے کے بعد ہلنے سے بھی قاصر تھی، لاہور سے ٹیم منگوائیں گئئ
پاکستان کے شمالی علاقوں میں گزشتہ دنوں جیکو جے 7 پی ایچ ای وی (پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک ویہیکل) کی ایک نئی گاڑی اچانک بند ہو گئی جس کیلئے کمپنی نے لاہور سے ٹیم بھیجی۔ اب انکشاف ہوا ہے کہ گاڑی کو مالک مرمت کے حیران کن بل 36 لاکھ روپے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ واقعہ پاکستانی آٹو مارکیٹ میں ہائبرڈ گاڑیوں کی پائیداری، آف روڈ استعمال اور سروس کے معیار پر بڑا بحث کا باعث بن گیا ہے۔
مالک شاہ زیب حیات خان اپنے خاندان کے ساتھ نیلم ویلی کے آخری گاؤں تاؤبٹ (Taobat) کی طرف سفر پر تھے۔ یکم مئی 2026 کی رات تقریباً 10:40 بجے گاڑی میں وارننگ میسیج ظاہر ہوا اور گاڑی پروٹیکشن موڈ میں چلی گئی۔ تمام تر کوششوں کے باوجود گاڑی کو اپنی جگہ سے ہلانا بھی ممکن نہیں تھا۔
لاہور سے ایک ٹیم پہنچی اور گاڑی کو ریکور کروا کر ورکشاپ بھیجا گیا تو معائنے میں پتہ چلا کہ ہائی وولٹیج بیٹری سسٹم سے جڑا ایک کنیکٹر چھوٹے پتھر یا روڈ ڈیbris سے ٹکرا کر خراب ہو گیا تھا۔
پاکستان میں گاڑیوں کے حوالے سے معروف ویب سائٹ پاک وہیلز کے مطابق کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کنیکٹر کو الگ سے مرمت نہیں کیا جا سکتا، اس لیے پوری بیٹری پیک تبدیل کرنا پڑے گی جس کی لاگت تقریباً 36 لاکھ روپے بنتی ہے۔
جیکو جے 7 پی ایچ ای وی، جو چینی آٹو میکر چیری کا سب برانڈ ہے، اکتوبر 2025 میں نشاط موٹرز (نشاط گروپ) کے ذریعے پاکستان میں متعارف کرایا گیا۔ یہ فیصل آباد میں نشاط موٹرز کی نئی فیکٹری میں لوکل اسیمبل ہوتی ہے۔ گاڑی کو مڈ سائز PHEV SUV کے طور پر مارکیٹ کیا گیا جو 347 پی ایس پاور، 525 نیوٹن میٹر ٹارک اور 106 کلومیٹر تک خالص الیکٹرک رینج فراہم کرتی ہے۔ لانچ کے وقت اسے جدید ٹیکنالوجی، کمپیکٹ ہائبرڈ سسٹم اور آف روڈ صلاحیتوں کی وجہ سے سراہا گیا تھا۔ تاہم یہ پہلا بڑا واقعہ ہے جس میں ہائی وولٹیج بیٹری سسٹم کی مرمت کی لاگت اتنی زیادہ سامنے آئی ہے
سوشل میڈیا پر صارفین اسے جیکو برانڈ کی سروس اور پارٹس کی دستیابی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ کچھ لوگ Toyota، Honda اور Suzuki جیسی روایتی برانڈز کی طرف لوٹنے کا مشورہ دے رہے ہیں جبکہ دوسرے ہائبرڈ گاڑیوں کی طویل مدتی لاگت پر بحث کر رہے ہیں۔
پاکستان میں ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے مگر ہائی وولٹیج بیٹری کی مرمت اور پارٹس کی دستیابی ابھی تک چیلنج ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف جیکو J7 بلکہ دیگر چینی ہائبرڈ ماڈلز (جیسے BYD، Deepal وغیرہ) کے مستقبل پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ نشاط گروپ نے ابھی تک اس کیس پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا، البتہ سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے کہ کیا کمپنی وارنٹی کے تحت یہ خرچہ برداشت کرے گی یا نہیں۔