کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کیس، سندھ حکومت کا جے آئی ٹی بنانے کا اعلان
ملزمہ کے قبضے سے چرس سمیت مختلف اقسام کی منشیات اور اسلحہ برآمد ہوا ہے، تفتیشی حکام
فوٹو سوشل میڈیا
کراچی: منشیات کے بڑے نیٹ ورک کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سندھ حکومت واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار نے واقعہ کی رپورٹ طلب اور متعلقہ افسران کے خلاف مشترکہ طور پر انکوائری کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے واقعے کی شفاف انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے اور محکمہ داخلہ اس پورے معاملے کی نگرانی کر رہا ہے۔سندھ حکومت قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور رپورٹ آنے کے بعد مزید سخت فیصلے کیے جائیں گے۔
کافی عرصے سے اس خاتون کی گرفتاری کی کوششیں کی جارہی تھیں۔ملزمہ کے خلاف اے این ایف اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے مقدمات بھی موجود ہیں اور اسے انہی اداروں کی سفارش پر گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں معاونت کرنے والے تمام افراد ایک گھنٹے میں جیل میں ہوں گے۔
پولیس کے مطابق یہ خاتون کوکین اور دیگر منشیات کی کراچی میں سب سے بڑی مبینہ سپلائر ہے جس کو ضلع جنوبی پولیس نے سویلین حساس اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کیا ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی شہر میں کوکین اور دیگر منشیات کی بڑی سطح پر سپلائی میں… pic.twitter.com/jby57muKQJ
— Naimat Khan (@NKMalazai) May 12, 2026
پولیس ذرائع کے مطابق انمول عرف پنکی کراچی میں منشیات کے ایک منظم اور وسیع نیٹ ورک کو چلا رہی تھی اور ملک کے مختلف علاقوں میں منشیات کی سپلائی میں ملوث تھی۔ملزمہ کا تعلق قصور سے ہے جبکہ وہ کراچی کے علاقے جمشید روڈ بلوچ پاڑہ کی رہائشی تھی۔ ملزمہ اس سے قبل درخشاں تھانے میں بھی گرفتار ہو چکی ہے، جبکہ اس کا بھائی اور گروہ کے دیگر ارکان پہلے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں۔منشیات کی خرید و فروخت میں ’پنکی‘ کا نام بطور کوڈ استعمال کیا جاتا تھا تاکہ نیٹ ورک کی سرگرمیاں خفیہ رکھی جا سکیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ کے قبضے سے چرس سمیت مختلف اقسام کی منشیات اور اسلحہ برآمد ہوا ہے، جبکہ برآمد شدہ منشیات کی مالیت 15 لاکھ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمہ کے قبضے سے ایک پستول اور راؤنڈز بھی برآمد کیے گئے۔انمول عرف پنکی خواتین رائیڈرز کے ذریعے منشیات کی ترسیل کرواتی تھی اور اس کے خریداروں میں طلبہ و طالبات سمیت مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ بعض اہم شخصیات کو بھی منشیات فراہم کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے خلاف تھانہ گارڈن میں متعدد مقدمات درج ہیں اور وہ 10 مقدمات میں مطلوب اور مفرور تھی۔ نیٹ ورک سے وابستہ مزید افراد کی گرفتاری اور شواہد اکٹھے کرنے کیلئے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کی بغیر ہتھکڑی عدالت پیشی، ایڈیشنل آئی جی کا سخت نوٹس
کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کی بغیر ہتھکڑی عدالت پیشی کا معاملہ، ایڈیشنل آئی جی نے نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی پولیس نے منشیات نیٹ ورک کی بڑی سرغنہ انمول عرف پنکی کوگرفتار کر کے عدالت پیش کیا، تو اس موقع پر نہ تو ملزمہ کو باقاعدہ ہتھکڑی لگائی گئی ، بلکہ ایک پولیس اہلکار ملزمہ کے لئے راستہ بھی کلیئر کراتا رہا، ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس چیف نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور متعلقہ افسران کے کردار کے تعین کے لئے انکوائری کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایڈیشنل آئی جی کا کہنا ہے پولیس کے تمام افسران و اہلکار قواعد وضوابط کے پابند ہیں، خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔