صدر ٹرمپ چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے ، پرتپاک استقبال
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات جمعرات کو ہو گی ، اہم مسائل پر گفتگو متوقع
فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا
بیجنگ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خصوصی طیارے ایئرفورس ون کے ذریعے چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے ہیں، جہاں ایئر فورس ون کے لینڈ کرتے ہی ان کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا گیا اور روایتی چینی تزک و احتشام کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا۔
بیجنگ ایئرپورٹ پر صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے اعلیٰ چینی حکام جن میں چین کے نائب صدر ہان ژینگ ،واشنگٹن میں چین کے سفیرژی فینگ ، چین کے ایگزیکٹو نائب وزیر خارجہ ما ژاؤ شو ، بیجنگ میں متعین امریکی سفیرڈیوڈ پرڈیو موجود تھے۔
استقبالیہ تقریب میں فوجی بینڈ اور گارڈ آف آنر کے ساتھ ساتھ تقریباً 300 چینی نوجوانوں نے شرکت کی، جنہوں نے پرجوش انداز میں صدر کا خیر مقدم کیا۔ تقریب کے بعد صدر ٹرمپ اپنی مخصوص سیاہ لیموزین میں ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے۔
امریکی صدر جمعرات کو چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک انتہائی اہم دو روزہ سربراہی ملاقات کریں گے۔
2017 کے بعد صدر ٹرمپ کا یہ پہلا دورہ چین ہے، جسے عالمی سطح پر بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔ جمعرات اور جمعہ کو ہونے والی ان ملاقاتوں میں دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے سربراہان کئی سنگین مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان تجارتی توازن اور محصولات کے حوالے سے جاری تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
خطے کی سیکیورٹی اور تائیوان کی حیثیت پر دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت موقف سامنے آنے کا امکان ہے۔
مستقبل کی ٹیکنالوجی پر کنٹرول اور اس کے اخلاقی استعمال کے حوالے سے عالمی ضابطوں پر بات چیت ہوگی۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، بالخصوص ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور اس کے عالمی اثرات پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔
ٹرمپ کے دورے کی تفصیلات اور مصروفیات
صدارتی پروٹوکول کے مطابق، بیجنگ پہنچنے پر آج صدر ٹرمپ کی کوئی عوامی مصروفیت یا تقریب شیڈول نہیں ہے۔ تاہم، وہ جمعرات اور جمعہ کو چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اہم ملاقاتوں کے ایک طویل سلسلے میں شرکت کریں گے۔
روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی توجہ کا مرکز تجارت رہے گی۔
ان کے دورے کے اہم اہداف چین کے ساتھ امریکی خوراک اور طیاروں (ایئر کرافٹ) کی فروخت کے بڑے معاہدوں پر دستخط کرنا۔
صدر کا ماننا ہے کہ چین سے مزید خریداری کروا کر وہ امریکی معیشت کو سہارا دے سکیں گے اور اسے اپنی ایک بڑی سیاسی جیت کے طور پر پیش کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ وہ شی جن پنگ سے کسی بھی دوسرے موضوع کے مقابلے میں تجارت پر سب سے زیادہ بات کریں گے۔
شاہراہوں پر گلدستے، سڑکوں پر پولیس کا پہرہ
وسطی بیجنگ میں سڑکوں کے کناروں پر پولیس اور فوجی پولیس دونوں تعینات ہیں، خاص طور پر ان فائیو سٹار ہوٹلوں کے اطراف جہاں ٹرمپ کے وفد کے اراکین کے قیام کا امکان ہے۔
پولیس اہلکار شہر کے وسط میں پیدل چلنے والوں کے لیے بنے پلوں پر بھی پہرہ دے رہے ہیں اور پیدل چلنے والوں کے لیے بنائی گئی سرنگوں کے داخلی راستوں پر بھی تعینات ہیں۔
چینی حکومت عموماً کسی بھی رہنما کی ملک آمد پر سکیورٹی کے انتظامات بڑھا دیتی ہے، تاہم امریکہ کے صدر کے معاملے میں یہ انتظامات بظاہر کہیں زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔
اس دورے سے قبل کئی ہفتوں تک تیانانمن سکوائر کے گرد سڑکوں پر اضافی سکیورٹی چیکنگ کی جاتی رہی ہے۔
اس چوک کے مغربی حصے میں واقع گریٹ ہال آف دا پیپل وہ مقام ہے جہاں آنے والے دنوں میں زیادہ تر تقریبات منعقد ہوں گی۔
بیجنگ میں ان شاہرایوں پر بھی پھولوں کے گلدستے رکھے گئے ہیں جہاں سے صدر ٹرمپ کے موٹرکیڈ کے گزرنے کا امکان ہے۔
ان گلدستوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے اور وہ اس قدر دلکش نظر آتے ہیں کہ چین کے سوشل میڈیا پر ان ’ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے خریدے گئے پھولوں‘ کے اعلیٰ معیار کے بارے میں لطیفے گردش کر رہے ہیں۔