ایران جنگ رکوانے کی7ویں کوشش امریکی سینٹ میں ایک ووٹ سے ناکام
پہلی بار 3 ری پبلکن سینیٹرزنے قراردادکے حق میں رائے دی
تصویر: وکی پیڈیا
امریکی سینیٹ میں ایران جنگ کے معاملے پر صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد ایک ووٹ سے ناکام ہوگئی۔ قرارداد کے خلاف 50 اور حق میں 49 ووٹ ڈالے گئے۔
یہ قرارداد سینیٹر جیف مرکلے نے پیش کی تھی۔ ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن کے تین اراکین نے بھی جنگ کے خلاف ووٹ دیا۔ قرارداد کی صرف ایک ووٹ کے فرق سے ناکامی نے جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی مشکلات کو ظاہر کیاہے۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے بار بار ووٹ کرانے کی حکمتِ عملی کے سربراہ سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ ہم ہرہفتے اس پر ووٹنگ کرائیں گے اور وہ دن جلد ہی آسکتا ہے جب یہ سینیٹ صدر سے کہے گی کہ اس جنگ کو روک دو۔ کین کے مطابق ان کے کچھ ریپبلکن ساتھیوں نے، جنہوں نے ابتدائی طور پر جنگ کی حمایت کی تھی، دو ماہ گزرنے کے بعد اپنی پوزیشن پر دوبارہ غور کرنے کا کہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اپریل میں ایران کے ساتھ طے پانے والا سیز فائر 60 روزہ مدت کو ری سیٹ کر دیتا ہے۔کچھ ریپبلکنز اس دلیل سے متفق نہیں۔
جنگ کے آغازکے بعد سے سینیٹ میں اس طرح کی قرارداد منظور کرانے کی یہ ساتویں کوشش تھی۔پہلی بار سینیٹر لیسا مرکوفسکی (ریپبلکن، الاسکا) نے اس کی حمایت میں ووٹ دیا۔مرکوفسکی کے ساتھ ریپبلکن سینیٹرز سوزن کولنز (مین) اور رینڈ پال (کینٹکی) نے بھی حمایت میں ووٹ دیا۔