برطانوی مسلم ووٹرز کی سیاسی شرکت اور مخالف بیانیہ میں بھی اضافہ

مقامی انتخابات کے بعد مسلم سیاسی شرکت پر شکوک و شبہات اور تنقید

May 14, 2026 · امت خاص

برطانوی مسلمانوں کے لیے، جیسا کہ تمام برادریوں کے لیے بھی ہے، جمہوری عمل میں حصہ لینا منصفانہ نمائندگی اور عوامی زندگی میں بامعنی آواز کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے

لندن: برطانیہ میں حالیہ مقامی انتخابات کے دوران مسلم ووٹرز کی سیاسی شرکت میں اضافہ دیکھا گیا، تاہم اس شمولیت کو اکثر خوش آمدید کہنے کے بجائے شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی سیاست اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، جہاں لیبر حکومت اندرونی قیادت کے بحران اور استعفے کے مطالبات کا سامنا کر رہی ہے۔

یہ صورتحال 7 مئی کے مقامی اور ڈی وولڈ انتخابات میں پارٹی کی ناکامی کے بعد پیدا ہوئی۔

انتخابات کے دوران مسلم کمیونٹیز کی جانب سے ووٹر رجسٹریشن اور ٹرن آؤٹ بڑھانے کی کوششیں بھی سامنے آئیں، جن میں مسلم کونسل آف برطانیہ کی “گیٹ آؤٹ دی ووٹ” مہم شامل تھی۔ تاہم ان سرگرمیوں کو اکثر مثبت انداز میں دیکھنے کے بجائے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ انتخابی مہم کے دوران بعض حلقوں اور میڈیا میں مسلمانوں کے بارے میں منفی اور غلط بیانی پر مبنی بیانیہ سامنے آیا، جس میں “فیملی ووٹنگ” اور “مذہبی بنیاد پر ووٹنگ” جیسے الزامات شامل تھے۔

مزید کہا گیا کہ ان اصطلاحات کے ذریعے مسلمانوں کو ایک ایسے گروہ کے طور پر پیش کیا گیا جو سیاسی طور پر ایک ہی سمت میں ووٹ دیتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ کمیونٹی مختلف سیاسی رجحانات رکھتی ہے۔

دوسری جانب رائٹ ونگ جماعت ریفارم یو کے نے امیگریشن مخالف بیانیے کے ذریعے مقامی انتخابات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جس سے برطانیہ کی روایتی سیاسی جماعتوں کو نقصان پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق کچھ سیاسی حلقوں میں سخت امیگریشن پالیسیوں اور مسلم مخالف بیانیے میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ بعض امیدواروں کے سوشل میڈیا بیانات کو اسلاموفوبک اور نسل پرستانہ قرار دیا گیا۔

مسلم نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ رہائش، مہنگائی، تعلیم، روزگار اور مقامی سہولیات جیسے مسائل کو مدنظر رکھ کر ووٹ دیتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ برطانیہ میں سیاسی رجحانات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور کسی بھی جماعت کی حمایت کو یقینی نہیں سمجھا جا سکتا۔

آخر میں کہا گیا کہ مسلم کمیونٹیز کی سیاسی شمولیت کو مضبوط بنانے کے لیے رجسٹریشن، آگاہی اور جمہوری عمل میں فعال شرکت ضروری ہے تاکہ ان کی آواز کو مؤثر طور پر سنا جا سکے۔