ایران کے معاملے پر چین کی مدد کی ضرورت نہیں ، امریکی وزیر خارجہ
امریکہ چین سے کوئی "درخواست" نہیں کر رہا ، صرف اپنے مفادات اور عالمی استحکام کے لیے بات چیت کر رہا ہے ، ماکو روبیو
فائل فوٹو
بیجنگ: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حل کے لیے چین کی کسی قسم کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔
بیجنگ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح ملاقات کے بعد این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے خود مختار ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں عالمی طاقتیں بعض اہم علاقائی امور پر “مشترکہ موقف” رکھتی ہیں۔
مارکو روبیو نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان بات چیت میں ‘آبنائے ہرمز’ کا معاملہ سرفہرست رہا۔ انہوں نے کہا چینی فریق نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی عسکریت پسندی اور وہاں کسی بھی قسم کے ‘ٹول سسٹم’ محصولات کے نظام) کے نفاذ کے حق میں نہیں ۔ یہ وہی پوزیشن ہے جو امریکہ کی ہے، اور یہ خوش آئند ہے کہ اس نکتے پر ہم ایک صفحے پر ہیں۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ چین بھی ایران کے جوہری ہتھیار تیار کرنے کے خلاف ہے اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے تحفظات یکساں ہیں۔ تاہم انہوں نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ امریکہ چین سے کوئی “درخواست” نہیں کر رہا بلکہ صرف اپنے مفادات اور عالمی استحکام کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔
مارکو روبیو نے ایرانی قیادت کو خبردار کیا کہ وہ امریکی اندرونی سیاست یا سیاسی تقسیم کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش نہ کرے۔
انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایرانیوں کا خیال ہے کہ وہ ہماری ملکی سیاست کو استعمال کر کے ہم پر کسی ‘برے سودے’ کے لیے دباؤ ڈال سکیں گے تو یہ ان کی بھول ہے؛ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔