قطر سے ایل این جی کا دوسرا کارگو پاکستان پہنچ گیا
حکومت نے ممکنہ بجلی بحران سے بچنے کیلئے گیس سپلائی اقدامات تیز کر دیے
قطر سے ایل این جی جہاز پورٹ قاسم پہنچ گیا
پاکستان کو تین روز کے اندر قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی دوسری کھیپ موصول ہوگئی ہے، جبکہ حکومت نے خطے میں جاری کشیدگی اور توانائی سپلائی کے خدشات کے پیشِ نظر بجلی بحران سے نمٹنے کی تیاریاں مزید تیز کر دی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایل این جی بردار جہاز ’’مِہزم‘‘ تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار مکعب میٹر ایل این جی لے کر پورٹ قاسم کے پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم لمیٹڈ ٹرمینل ون پہنچا۔ اس سے قبل 13 مئی کو ’’الخرائطیات‘‘ نامی کیو فلیکس جہاز اینگرو ایل این جی ٹرمینل پر لنگر انداز ہوا تھا۔
حکام کے مطابق دونوں ٹرمینلز پر ایل این جی کو ری گیسیفائی کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور آر ایل این جی کو قومی گیس ترسیلی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور صنعتی شعبے کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے یہ دونوں کارگوز برینٹ خام تیل کی قیمت کے 13.37 فیصد کے مساوی معاہدہ شدہ نرخ پر حاصل کیے، جبکہ عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمت 17 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے اوپر جا چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر بڑھتی جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی خدشات کے باعث ایل این جی مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر سے مزید دو ایل این جی کارگوز کے حصول کیلئے بھی رابطے جاری ہیں، کیونکہ رواں برس امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستان کیلئے آنے والی چار ایل این جی کھیپیں متاثر ہوئی تھیں۔