پنکی کے مزید جسمانی ریمانڈکی استدعا پر فیصلہ محفوظ
برآمدہ منشیات معائنے کے لئے بھیجنی ہے۔وکیل استغاثہ
ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے موقع پر تصور
منشیات فروش پنکی کے جسمانی ریمانڈکی استدعاپر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ ملزمہ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو سخت سیکیورٹی میں پیش کیا گیا۔پولیس نےمزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔اس موقع پر میڈیا اور عام افراد کو اندر آنے جانے سے روک دیا گیاتھا۔
سرکاری وکیل شکیل عباسی نے عدالت میں کہا کہ ملزمہ سے برآمدہ منشیات معائنے کے لئے بھیجنی ہے، نیٹ ورک کے حوالے سے معلوم کرنا ہے، ۔وکیل استغاثہ کے مطابق ملزمہ انتہائی شاطر ہے، 9 دن کے جسمانی ریمانڈ پر دیا جائے۔ملزمہ نارکوٹکس کیس میں پہلے ہی جسمانی ریمانڈ پر ہے،ملزمہ نے جو الزامات لگائے اس کا ایک سنگل پروف نہیں۔سنگین نوعیت کے مقدمات میں خاتون ملزمہ کو 20 دن جسمانی ریمانڈ پر بھی دیا جاسکتا ہے۔
ملزمہ کے وکیل نےجسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ کو کافی دن پہلے حراست میں لیا گیا اوربعدمیں گرفتاری ظاہر کی گئی۔ وکیل صفائی کا کہناتھاکہ ملزمہ پر دباؤ ڈال کر بیانات لئے گئے۔
عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔پولیس ملزمہ کو موبائل دوسرے راستے سے لے کر روانہ ہوگئی۔
ملزمہ کے وکیل لیاقت گبول ایڈووکیٹ نےمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ا نمول نے بتایاہے پولیس دباؤ ڈال کر بیانات دلوارہی ہےپولیس سیاسی شخصیات و دیگر کے نام لینے کا کہہ رہی ہے۔ ہم نے ملزمہ کے میڈیکل کی بھی استدعا کی ہے۔وکیل صفائی نے کہا کہ ملزمہ نے مجھے بتایا پولیس نے دباؤ ڈال کر وڈیو بنائی ، دبائو پرویڈیو میں سیاسی شخصیات، اداکاروں و دیگر کے نام لئے۔