خیبرپختونخوا جل رہا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

ڈی آئی خان، کرک، ٹانک میں کوئی جا نہیں جاسکتا، میں خود ڈی آئی خان جارہا تھا، سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے نہیں جاسکا،ریمارکس

May 21, 2026 · اہم خبریں, قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ایک کیس میں ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا 4 کروڑ عوام کا صوبہ ہے جو جل رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق پشاور ہائی کورٹ میں لارجر بنچ کے کریمینل جسٹس سسٹم میں خامیوں سے متعلق فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس اعجاز خان نے کی جس دوران چیف سیکریٹری، ایڈووکیٹ جنرل، سیکرٹری داخلہ کے پی عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس ہائیکورٹ نے پوچھا کہ چیف سیکرٹری بتائیں لارجر بنچ کےفیصلے پرعمل کیوں نہیں ہوا، جو رپورٹ آپ نے پیش کی اس میں توکچھ نہیں، ہم نے پراسیکیوشن کو مضبوط کرنے کا کہا ہے۔

چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ریمارکس دیے کہ یہ صوبہ 4 کروڑعوام کا ہے، صوبہ جل رہا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں، جنوبی اضلاع دہشت گردی کی وجہ سے جل رہے ہیں، ڈی آئی خان، کرک، ٹانک میں کوئی جا نہیں جاسکتا، میں خود ڈی آئی خان جارہا تھا، سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے نہیں جاسکا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس صوبے کے بڑے افسر ہیں، اس صوبے میں کیا ہو رہا ہے، پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران پسماندہ اضلاع میں نہیں جاتے، ہماری خاتون جج وہاں ڈیوٹی کرسکتی ہے تو دوسرےافسران کیوں نہیں جاتے؟

یف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شرم کی بات ہےکہ صوبےسے ڈی این اے سیمپل لاہور بھیجےجاتے ہیں، ایک ڈی این اے ٹیسٹ پر 11 لاکھ روپے خرچہ آتا ہے جبکہ صوبے میں ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے کوئی لیبارٹری نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے، لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے اقدامات کریں، اگر کوئی اپنا کام نہیں کر رہا تو ہم اس کےخلاف کارروائی کا حکم دیں گے۔

چیف سیکرٹری کے پی شہاب علی شاہ نے عدالت میں کہا کہ دو تین ہفتے دے دیں میں خود اس کو دیکھوں گا، ہم نے رپورٹ تیارکی ہے وہ بھی عدالت کےساتھ شیئر کریں گے۔