آئرن برادرز: پاک چین غیر متوقع تعلقات کے 75 سال

May 21, 2026 · امت خاص
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں جشن کا سماں ہے، تاہم اس بے مثال دوستی کی جڑیں تاریخ کے ان فیصلوں میں پنہاں ہیں جنہوں نے خطے کی جیو پولیٹکس کو بدل کر رکھ دیا۔

مارچ 1963 میں پاکستان نے ایک ایسا غیر معمولی قدم اٹھایا جس کی تاریخ میں مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔ پاکستان نے ہانگ کانگ سے پانچ گنا بڑا علاقہ، یعنی شاکسگام ویلی (تقریباً 5,180 مربع کلومیٹر)، ایک سرحدی معاہدے کے تحت چین کے حوالے کر دیا۔ یہ وہ علاقہ تھا جسے بھارت متنازع کشمیر کا حصہ قرار دیتا ہے۔ 1962 کی پاک بھارت اور چین بھارت جنگ کے تناظر میں، پاکستانی قیادت نے یہ سٹریٹجک فیصلہ کیا کہ اس پہاڑی سلسلے پر چینی کنٹرول برقرار رہنا بھارت کے مقابلے میں زیادہ موزوں ہے۔

آج اس واقعے کو چھ دہائیاں گزرنے کے بعد، یہ سمجھوتہ اس گہرے اعتماد کا نقطہ آغاز ثابت ہوا جو ایک نظریاتی طور پر کمیونسٹ اور دوسرے نظریاتی طور پر اسلامی ملک کے درمیان قائم ہوا۔ اس لازوال دوستی کی بڑی وجہ بھارت کے ساتھ مشترکہ سٹریٹجک دشمنی اور یکساں مفادات بنے۔

اس تاریخی موقع کی مناسبت سے رواں ہفتے پاکستانی پارلیمنٹ میں خصوصی گہما گہمی دیکھی گئی۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ کی وزیٹرز گیلری میں موجود چینی پارلیمانی وفد سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کے “مشترکہ وژن” اور جغرافیائی طور پر پھیلی لازوال دوستی کا ذکر کیا۔ سینیٹ نے متفقہ طور پر “پاک چین دوستی اور بھائی چارے کی توثیق” کے عنوان سے ایک قرارداد بھی منظور کی۔

سفارتی سرگرمیوں کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، وزیر اعظم شہباز شریف 23 مئی کو ایک اعلیٰ سطحی سول اور عسکری وفد کے ہمراہ چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ روانہ ہوں گے۔

سالگرہ کے موقع پر دونوں ممالک کی جانب سے روایتی اور تاریخی الفاظ کا بازگشت سنائی دے رہا ہے،’لوہے جیسے بھائی’ اور ‘سمندروں سے گہری دوستی’ “آئرن برادرز” (لوہے جیسے مضبوط بھائی)ہر موسم کے دوست،ہمارے تعلقات ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہرے ہیں۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پروقار تقریبات اور روایتی بیانات کے پیچھے پاک چین تعلقات کی ایک طویل، پیچیدہ اور گہری داستان چھپی ہے، جو صرف ان چند جملوں تک محدود نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات اب محض سٹریٹجک شراکت داری سے بڑھ کر اقتصادی اور دفاعی محاذ پر ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔