کراچی میں ڈیڑھ سو زائد مقامات پر اجتماعی قربانی کا عمل جاری ہے۔حافظ نعیم

جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز اپنی مدد آپ کے تحت صفائی آلائشیں اٹھانے کا انتظام کر رہے ہیں

May 27, 2026 · قومی

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر بڑی سطح پر قربانی کا عمل جاری ہے، جبکہ گلبرگ سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں کو سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں 150 سے زائد مقامات پر اجتماعی قربانی کا نظام چل رہا ہے۔

جامع مسجد قباء فیڈرل بی ایریا بلاک 13 گلبرگ میں جماعت اسلامی اور الخدمت کے تحت قائم اجتماعی قربانی کے مراکز کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہو انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان اپنی ذاتی مصروفیات ترک کرکے خدمت خلق میں مصروف ہیں، جبکہ کھالوں کے نظام سے کئی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، تاہم حکومت کو چاہیے کہ کھالوں کی مناسب قیمت مقرر کرے۔

انہوں نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے 43 ارب روپے کے بجٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہری روزمرہ کچرا اٹھانے کے لیے بھی بھاری رقم ادا کر رہے ہیں، جبکہ قربانی کی آلائشیں اٹھانے کا انتظام بھی انتہائی سست ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز اپنی مدد آپ کے تحت صفائی اور آلائشیں اٹھانے کا انتظام کر رہے ہیں، جبکہ شہر میں پانی کا بحران شدید ہے اور حکومت اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امت مسلمہ اور پاکستانی قوم کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری عبادات اور قربانیوں کو قبول فرمائے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 50 سال سے پیپلز پارٹی اور گزشتہ 18 سال سے مسلسل حکومت کے باوجود پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں “فارم 47 کی پیداوار” ہیں اور عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اہل غزہ نے امت مسلمہ کی طرف سے قربانی دی ہے جس کے بعد امریکہ اور اسرائیل کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام جنگ بندی معاہدوں کے باوجود اسرائیل فلسطین پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے بعض بین الاقوامی بیانات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ امریکہ کی بالادستی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پیٹرول لیوی اور مہنگائی کے خلاف تحریک جاری رہے گی اور عید کے بعد پہیہ جام ہڑتال کی کال بھی دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے سندھ حکومت پر کرپشن اور نااہلی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے اشتہارات عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے دیے جاتے ہیں۔