ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ: ٹرمپ نے ہنگامی اجلاس بلا لیا
آئندہ کے لائحہ عمل اور "حتمی فیصلے" کے لیے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں قومی سلامتی کی ٹیم کا اہم اجلاس منعقد کر رہے ہیں، ٹرمپ
فائل فوٹو
واشنگٹن: ایران ڈیل پر حتمی فیصلہ، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل اور “حتمی فیصلے” کے لیے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں قومی سلامتی کی ٹیم کا اہم اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان جنگ بندی میں 60 روز کی توسیع، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری پروگرام پر پابندیوں سے متعلق ایک اصولی معاہدے کا فریم ورک تیار ہو چکا ہے، تاہم اس کی حتمی منظوری صدر ٹرمپ کے فیصلے سے مشروط ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے اور جنگ بندی کے فریم ورک پر اہم پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر بہت جلد “حتمی
سیاسی و سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکرات کار خطے میں کشیدگی کم کرنے، عارضی جنگ بندی میں 60 دنوں کی توسیع اور تجارتی لحاظ سے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کو دوبارہ جہاز رانی کے لیے کھولنے کی ایک مفاہمت پر پہنچ چکے ہیں۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے واضح کر رکھا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر سخت ترین معائنے اور یورینیم کی منتقلی جیسے مطالبات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی حالیہ بیانات میں تصدیق کی ہے کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن حتمی تاش اب بھی صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے، جس کا فیصلہ وائٹ ہاؤس کے اس اہم اجلاس کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب تہران کی جانب سے بھی بیانات سامنے آئے ہیں جن کے مطابق ایرانی وفد اصولی طور پر توثیق کے لیے تیار ہے بشرطیکہ واشنگٹن عائد کردہ اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی کے وعدوں کو پورا کرے۔