تربوز کھانے کے بعد پانی یا دودھ پینا واقعی نقصان دہ ہے؟
ایک پرانا سوال بھی بار بار سامنے آتا ہے کہ کیا تربوز کھانے کے فوراً بعد پانی، دودھ یا لسی پینے سے صحت پر منفی اثرات پڑ سکتے ہی
گرمیوں میں تربوز کا استعمال عام ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک پرانا سوال بھی بار بار سامنے آتا ہے کہ کیا تربوز کھانے کے فوراً بعد پانی، دودھ یا لسی پینے سے صحت پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں یا حتیٰ کہ ہیضہ جیسی بیماری بھی ہو سکتی ہے؟
ماہرین کے مطابق اس دعوے کی تائید میں کوئی واضح سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ تربوز کھانے کے بعد پانی پینے سے ہیضہ یا کوئی خطرناک بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔ بعض روایتی نظریات کے مطابق ایسا کرنے سے ہاضمے میں خلل پڑ سکتا ہے، تاہم جدید طبی تحقیق اس حوالے سے کسی سنگین خطرے کی نشاندہی نہیں کرتی۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تربوز میں پہلے ہی پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ بعض افراد میں اس کے فوراً بعد مزید پانی پینے سے معدے میں بھاری پن، اپھارہ یا ہاضمے میں سستی کا احساس پیدا ہو سکتا ہے، لیکن یہ کیفیت ہر شخص میں یکساں نہیں ہوتی۔
ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اگر تربوز آلودہ ہو، یا اسے کاٹنے کے لیے استعمال ہونے والی چھری اور ہاتھ صاف نہ ہوں تو معدے کی خرابی یا دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے صفائی کا خیال رکھنا زیادہ اہم ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ تربوز سے شربت، ملک شیک اور دہی پر مشتمل مختلف مشروبات بھی تیار کیے جاتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تربوز کو دیگر مائعات کے ساتھ استعمال کرنا بذاتِ خود نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر کسی شخص کو تربوز کھانے کے بعد پانی پینے سے معدے میں بوجھ یا بے آرامی محسوس ہوتی ہو تو وہ 20 سے 30 منٹ کا وقفہ رکھ سکتا ہے۔ تاہم صحت مند افراد کے لیے اس حوالے سے کوئی سخت طبی پابندی موجود نہیں۔
معالجین کے مطابق ہر فرد کا نظامِ ہاضمہ مختلف ہوتا ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ انسان اپنے جسم کے ردِعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے غذائی عادات اختیار کرے۔