تمام سرکاری اور نجی اداروں میں پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں سے بلاتنخواہ کام لینے پر پابندی

کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کا نوٹیفکیشن جاری

June 1, 2026 · امت خاص, ہیلتھ

 

کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) نے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں سے بلا تنخواہ کام لینے پر سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تمام سرکاری اور نجی طبی اداروں کے لیے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ، جو ہسپتال بلا تنخواہ یا اعزازی بنیادوں پر تربیت فراہم کریں گے، ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی، حتیٰ کہ ان کی رجسٹریشن فوری طور پر معطل کر دی جائے گی۔ مزید برآں، جو ہسپتال یا میڈیکل کالج پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کو مقررہ وظیفہ ادا نہیں کریں گے، وہ جولائی 2026ء کے سیشن میں نئے ڈاکٹروں کو داخلہ دینے کے اہل نہیں ہوں گے۔

ہسپتال پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کے تمام پرانے بقایاجات بھی ادا کریں گے۔کسی بھی سرکاری یا نجی جامعہ کی طرف سے ٹریننگ کے نام پر لی جانے والی سالانہ یا ٹیوشن فیس کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔سی پی ایس پی کے رولز اینڈ ٹریننگ مانیٹرنگ سیل کے مطابق، ڈاکٹرز کسی بھی ایسے ادارے میں غیر ادا شدہ نشست قبول نہ کریں، کیونکہ ایسی تربیت رجسٹرڈ نہیں کی جائے گی۔ اگر کوئی ادارہ ٹریننگ کے عوض فیس طلب کرے یا مقررہ تنخواہ / وظیفہ ادا نہ کرے تو ڈاکٹر باضابطہ شکایت درج کرا سکتے ہیں۔

یہ فیصلہ ایف سی پی ایس اور ایم سی پی ایس پروگراموں میں شامل ڈاکٹروں کے مالی اور پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔تاہم یہ پہلا موقع نہیں جب ایسا نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہو۔ اِس سے قبل 24 برس قبل ایسا ہی حکم نامہ جاری کیا جا چکا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ متعدد ادارے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں سے ہفتے میں 60 گھنٹے تک کام کراتے تھے، مگر انہیں کوئی معاوضہ یا مشاہرہ فراہم نہیں کیا جاتا تھا۔ بعض اداروں میں نشستوں کو آدھی پیڈ اور آدھی ان پیڈ رکھا جاتا تھا، جس سے امتیازی سلوک ہوتا تھا۔معروف طبی راہنما اور “بابائے کراچی” کے خطاب سے یاد کیے جانے والے سابق ناظم کراچی پروفیسر نعمت اللہ خان نے اپنے دورِ نظامت میں کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج (KMDC) اور عباسی شہید ہسپتال جیسے بڑے اداروں میں میرٹ اور ڈاکٹروں کے حقوق کی پاسداری کی۔سی پی ایس پی کا یہ تازہ اقدام اسی فکری تسلسل کی ایک کڑی ہے۔

جب نعمت اللہ خان کے سامنے پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کے بلا معاوضہ کام کرنے کا مسئلہ رکھا گیا تو انہوں نے بلا توقف اپنے ماتحت پوسٹ گریجویٹ اداروںعباسی شہید ہسپتال اور سوبھراج ہسپتال میں اس اصول پر فوری عمل درآمد کرانے کا حکم جاری کیا اورضابطے کی سختی سے پابندی کی ہدایت بھی دی تھی۔ن کا کہنا تھا کہ ایک ڈاکٹر ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد مشکل سے ایف سی پی ایس پارٹ ون پاس کرتا ہے، پھر مسابقتی امتحان میں کامیابی کے بعد اسے پوسٹ گریجویٹ شپ دی جاتی ہے، اور پھر چار سے پانچ سال کی تربیت بغیر کسی تنخواہ کے گزارنا اس کی صلاحیتوں کے ساتھ زیادتی اور معاشرے کی طرف سے ایک غیر مناسب سلوک ہے۔ انہوں نے یقینی بنایا کہ یہ مشاہرہ صرف مستحق پوسٹ گریجویٹس کو ملے اور یہ سلسلہ تکمیلِ تربیت کے بعد آنے والے نئے پوسٹ گریجویٹس کے لیے بھی بطور استحقاق جاری رہے۔

ٹیگز: