ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک کی خبروں کو مسترد کر دیا
لیک ہونے والے نمونے کے ریکارڈز کا ادارے کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ سیکیورٹی خلاف ورزی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے۔
ایچ ای سی کے جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق لیک ہونے والے نمونے کے ریکارڈز کا ادارے کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے دعوے حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔
ایچ ای سی کا یہ ردعمل ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سائبر کرائم فورمز پر پاکستان کے 15 لاکھ سے زائد ریکارڈز فروخت یا شیئر کیے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایچ ای سی کے سائبر سیکیورٹی آپریشن سینٹر اور سینٹرلائزڈ ہائر ایجوکیشن سسٹم نے صورتحال کا جائزہ لیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ لیک ہونے والا ڈیٹا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے حاصل کیا گیا ہے۔
ایچ ای سی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مبینہ واقعے سے متعلق غیر مصدقہ معلومات اور افواہیں پھیلانے سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے فراہم کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔