گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز انتخابی نتائج کی کنجی بن گئیں

مرد ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 269 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 257 ہے، یعنی دونوں کے درمیان صرف 12 ووٹوں کا فرق موجود ہے۔

June 3, 2026 · قومی
گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز انتخابی نتائج کی کنجی بن گئیں

گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز انتخابی نتائج کی کنجی بن گئیں

گلگت: گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں خواتین ووٹرز انتخابی نتائج پر اہم اثر ڈالنے کی پوزیشن میں آ گئی ہیں، جہاں کئی حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں معمولی فرق سیاسی جماعتوں کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 480 ہے، جبکہ متعدد حلقوں میں خواتین ووٹرز کا تناسب انتخابی مقابلے کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دیامر-1 کو سب سے نمایاں حلقہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ اس حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 269 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 257 ہے، یعنی دونوں کے درمیان صرف 12 ووٹوں کا فرق موجود ہے۔

دوسری جانب گلگت-2 میں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان سب سے زیادہ فرق ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس حلقے میں خواتین ووٹرز کی تعداد 26 ہزار 10 ہے جبکہ مرد ووٹرز کی تعداد اس سے کئی ہزار زیادہ ہے۔

انتخابی تجزیہ کاروں کے مطابق گلگت-2، ہنزہ، غذر-2، گلگت-3 اور اسکردو-2 ایسے حلقے ہیں جہاں خواتین ووٹرز انتخابی نتائج پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں۔ ان حلقوں میں خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔

ادھر انتخابات میں خواتین کی سیاسی شرکت بھی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ مختلف حلقوں سے 8 خواتین امیدوار میدان میں ہیں، جو گلگت بلتستان کی سیاست میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی اور کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین ووٹرز کی فعال شرکت نہ صرف انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں جمہوری عمل کو بھی مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔