سزائے موت کے بعد کوئی نہیں پوچھے گا خاتون رات کو وہاں کیوں گئی
یہ واقعہ 9 ستمبر 2020 کو لاہور موٹروے پر پیش آیا تھا جس کے بعد دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے مختلف دفعات کے تحت سزائیں سنائی گئی تھیں۔
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد علی شاہ نے موٹروے گینگ ریپ کیس میں مجرمان کی سزائیں برقرار رہنے کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب پنجاب پہلے سے زیادہ محفوظ ہے اور ریاست نے انصاف کی فراہمی یقینی بنائی ہے۔سزائے موت کے بعد کوئی نہیں پوچھے گا خاتون رات کو وہاں کیوں گئی
انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ موٹروے پر پیش آنے والے واقعے میں خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا ایک بڑا چیلنج تھا۔
فرہاد علی شاہ کے مطابق ایک شہری کی ون فائیو کال پر کارروائی شروع ہوئی، جبکہ متاثرہ خاتون کے بیان اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر ملزمان کی شناخت ممکن ہوئی۔ ایک ملزم عابد ملہی کا ڈی این اے شواہد سے میچ ہوا، جبکہ دوسرے ملزم شفقت بگا کو سی ڈی آر ریکارڈ کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے دن رات محنت کرکے کیس کو ثابت کیا اور عدالتوں میں مؤثر پیروی کے ذریعے سزائیں برقرار رکھوائیں۔
یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے حال ہی میں مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت کے خلاف اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
یہ واقعہ 9 ستمبر 2020 کو لاہور موٹروے پر پیش آیا تھا جس کے بعد دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے مختلف دفعات کے تحت سزائیں سنائی گئی تھیں۔