پنکی کو لاہور سے گرفتار کیا۔سندھ پولیس نے اعتراف کر لیا

گرفتاری لاہور میں ہوئی تو سندھ بدنام کیوں؟آغا رفیع اللہ کا سوال

June 5, 2026 · قومی

سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مراکز کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے منشیات کے کاروبار کے خلاف “زیرو ٹالرنس پالیسی” پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سندھ پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ انمول پنکی کو لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے سوال اٹھایا کہ اگر گرفتاری لاہور میں ہوئی تھی تو پھر سندھ کی ساکھ کو ملک بھر میں کیوں متاثر کیا گیا۔

بریفنگ میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک سے ایک ارب روپے مالیت کی نسوار برآمد کی گئی ہے۔ اس موقع پر کمیٹی رکن قادر پٹیل نے سوال کیا کہ اگر نسوار کی برآمدات کی اجازت ہے تو پھر پان اور گٹکے پر پابندی کیوں برقرار ہے۔

دریں اثنا، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے انمول پنکی سے مبینہ روابط کے الزام میں دو پولیس افسران کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔

اس سوال کے جواب میں سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ موجودہ قانونی نظام میں بعض تضادات موجود ہیں، جبکہ ماوا اور گٹکے کے مضر اثرات نسوار سے مختلف نوعیت کے ہیں۔

کمیٹی کے رکن نبیل گبول نے حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ماوا، گٹکے اور منشیات کے خلاف کارروائیاں زیادہ تر لیاری اور غریب آبادیوں تک محدود دکھائی دیتی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایسے مخصوص مقامات اور طریقہ کار کی تفصیلات فراہم کر سکتے ہیں جہاں مبینہ طور پر پولیس کی ملی بھگت سے منشیات فروخت کی جا رہی ہیں۔

اجلاس میں شریک فریال تالپور نے منشیات فروشوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس حکام کو مؤثر کارروائی کی ہدایت کی۔ انہوں نے نبیل گبول سے بھی کہا کہ وہ متعلقہ معلومات فراہم کریں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کرکے مناسب کارروائی کر سکیں۔