بجلی و پانی کی عدم فراہمی،کورنگی کراسنگ ، قیوم آباد چورنگی پراحتجاج ، شہری رل گئے

ہزاروں گاڑیاں ٹریفک میں پھنس گئیں ،پبلک ٹرانسپورٹ میں بیٹھے لوگ اتر کر پیدل گھروں کو چلے گئے۔

June 5, 2026 · اہم خبریں, قومی
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

کراچی: کورنگی کراسنگ پر بجلی کی عدم فراہمی اور  قیوم آباد چورنگی پر مکنوں نے پانی کی عدم فراہمی پر احتجاجاً سڑک بند کردی جس کے سبب ہزاروں گاڑیاں پھنس گئیں، چورنگی سے ملحقہ تمام سڑکوں پر ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا، شدید گرمی میں گاڑیوں میں پھنسے ہزاروں شہری بری طرح رُل گئے، پبلک ٹرانسپورٹ میں بیٹھے لوگ اتر کر پیدل گھروں کو چلے گئے۔

 

کورنگی قیوم آباد کے مختلف بلاکس اے، بی اور سی سمیت ملحقہ علاقوں کے مکینوں کی بڑی تعداد نے جمعہ کی دوپہر پانی کی عدم فراہمی پر احتجاج کرتے ہوئے قیوم آباد چورنگی پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹریفک معطل کر دیا اور واٹر کارپوریشن کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ساڑھے 4 گھنٹے تک سڑک بند کیے بیٹھے رہے۔

بدترین ٹریفک جام میں گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور ان میں پھنسے ہوئے شہری شدید گرمی اور دھوپ کی وجہ سے بری طرح سے رل گئے جبکہ موٹر سائیکل سواروں کی بھی بڑی تعداد پریشانی کے عالم میں راستہ تلاش کرتے ہوئے دکھائی دی۔

احتجاج کی وجہ سے کورنگی ندی سے قیوم آباد چورنگی آنے والا ٹریفک بھی شدید متاثر ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات اور دقت کا سامنا کرنا پڑگیا، احتجاج ساڑھے 4 گھںٹوں تک جاری رہا۔

قیوم آباد چورنگی سے متصل بلوچ کالونی ایکسپریس وے سمیت دیگر سڑکوں پر رکاوٹ لگانے سے ٹریفک کی روانی بری طرح سے متاثر ہوگئی۔

خواتین، بچے ، مرد اور ہرطرح کے شہری شدید دھوپ اور گرمی میں منزل تک پہنچنے کیلیے پیدل سفر کرنے پر مجبور ہو گئے ،نہتے شہریوں کی طرح پولیس اور رینجرز بھی بے بس دکھائی دیے، حکوت تھی نہ کہیں حکومت کی رٹ، ایسے لگ رہاتھا کراچی لاوراث ہو گیاہے، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے علاقوں میں گزشتہ 4 ماہ سے پانی کی فراہمی معطل ہے جس کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے اور پانی خریدنا پڑرہا ہے جو ہم غریبوں پر اضافی بوجھ ہے، لائنوں میں گندا، غلیظ اور کیمیکل ملا پانی آتا ہے وہ ہمارے کس کام کا نہیں! لیکن حکمران اپنی مستی میں مست ہیں انھیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں کے حصول میں کس حد تک پریشان ہے لیکن مجال ہے کہ ان کے کان پر جوں تک رینگ جائے۔

اس موقع پر علاقائی سطح کے نمائندوں نے مظاہرین سے خطاب بھی کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ واٹر کارپوریشن حکام کے جانب سے پیغام آیا ہے کہ احتجاج ختم کر دو کل سے پانی آجائے گا لیکن اب ایسا نہیں چلے گا، واٹر کارپوریشن کے عملے کو قیوم آباد چورنگی پر آنا پڑے گا اور اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ علاقے کو مستقل بنیاد پر پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، جھوٹی یقین دہانیوں کا وقت گزر چکا۔

ظاہرین نے میئر کراچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قیوم آباد کا علاقہ بھی آپ کا ہے ہم پر بھی تھوڑا رحم کریں۔ مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ بچے، نوجوان، مائیں، بہنیں اور بزرگ آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنا آہنی کردار ادا کرتے ہوئے واٹر کارپوریشن کا قبلہ درست کرائیں۔