مبینہ ویڈیو لیک معاملہ:آزاد رکنِ پنجاب اسمبلی سلمان شاہد کی درخواست پر ملزمان طلب
ویڈیو مکمل طور پر جعلی اور من گھڑت ہے، مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ہے ، سلمان شاہد
فائل فوٹو
لاہور: آزاد رکنِ پنجاب اسمبلی سلمان شاہد کی مبینہ ویڈیو لیک کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے باقاعدہ کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے نامزد ملزمان کو طلب کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق آزاد ایم پی اے سلمان شاہد نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اپنی ایک مبینہ ویڈیو کے خلاف این سی سی آئی اے میں درخواست دائر کی تھی۔درخواست میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ ویڈیو مکمل طور پر جعلی اور من گھڑت ہے، جسے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) یعنی مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیک ویڈیو کو وائرل کرنے کا مقصد ان کی سیاسی اور ذاتی ساکھ کو شدید نقصان پہنچانا ہے۔
درخواست گزار کی جانب سے جمع کرائی گئی اس شکایت میں دو معلوم ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 25 نامعلوم افراد کو بھی اس سازش کا حصہ قرار دیتے ہوئے کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔
سائبر کرائم حکام کے مطابق سلمان شاہد کی درخواست پر فوری ایکشن لیتے ہوئے نامزد دونوں مرکزی ملزمان کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
ایجنسی نے دونوں ملزمان کو 8 جون کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے اور اپنے جوابات داخل کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ واقعے کی جدید سائنسی خطوط پر تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ویڈیو کے فرانزک تجزیے کے بعد قانون کے مطابق سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔