گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے 5 حلقوں کے نتائج روک دیے
ان حلقوں کے کچھ پولنگ اسٹیشن میں دوبارہ پولنگ 15 جون کو ہو گی ، الیکش کمیشن
فائل فوٹو
گلگت: گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے 5 حلقوں کے نتائج روک دیے، ان حلقوں کے 16 پولنگ اسٹیشن میں دوبارہ پولنگ 15 جون کو ہو گی
تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کے جن حلقوں کے نتائج روکے گئے ہیں ان میں جی بی اے 8اسکردو۔ جی بی اے 13 استور۔ جی بی اے 15 دیامر شامل ۔ جی بی اے 16 چلاس اور جی بی اے 17 داریل شامل ہیں۔
چیف الیکشن کمشنرراجا شہبازخان کا کہنا ہے پانچ حلقوں کے کچھ پولنگ اسٹیشنز پردوبارہ ووٹنگ پندرہ جون کوہوگی، مجموعی طور پر پرامن اور مثالی انتخابات ہوئے ۔
الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق حلقہ 15 (دیامیر ون) میں ضلعی ریٹرننگ آفیسر نے ایک پولنگ سٹیشن میں پتھراؤ اور فائرنگ کے باعث ووٹنگ معطل کر دی گئی تھی۔ اُن کے مطابق حلقہ 8 (سکردو ٹو) میں مبینہ بے ضابطگیوں اور قانون کی خلاف ورزی پر امیدوار کی جانب سے ری پولنگ کا مطالبہ کیا گیا جسے قبول کیا گیا ہے اور اس حلقے کے 10 پولنگ سٹیشنز میں ری پولنگ ہو گی۔
حلقہ 16 (دیامیر ٹو) کے تین پولنگ سٹیشنز میں امیدوار کی طرف سے بے ضابطگیوں کا الزام لگایا گیا جہاں اب ری پولنگ ہو گی۔
الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن میں متعلقہ ریٹرننگ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان حلقوں میں دوبارہ پولنگ مکمل ہونے اور اس کے نتائج موصول ہونے تک کسی بھی صورت میں حتمی نتائج کو نہ کھولیں، نہ ان کی جانچ پڑتال کریں اور نہ ہی انھیں جاری کریں۔
دستاویز کے مطابق نتائج کی تشکیل (کنسولیڈیشن) کا عمل الیکشن ایکٹ 2017 اور انتخابی قواعد کے تحت اُس وقت تک مکمل نہیں کیا جائے گا جب تک دوبارہ پولنگ والے تمام سٹیشنز کے نتائج شامل نہ کر لیے جائیں۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کو ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
دوسری جانب گلگت بلتستان میں حکومت سازی کیلئے جتن شروع کیر دیے ہیں جبکہ پی پی رہنماؤں نے ن لیگ کواقتدارمیں شامل نہ کرنے کا مشورہ دے دیا اور کہا کہ ہمارے نمبرز پورے ہیں ، آزاد ارکان کوساتھ شامل کریں ۔
وزیراعلیٰ اور گورنر پیپلزپارٹی کے ہونے چاہئیں تاہم حتمی فیصلہ بلاول بھٹو کریں گے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا پیپلزپارٹی حکومت بنائے تو ن لیگ اپوزیشن میں بیٹھے ، کوئی حکومت پانچ سال میں گلگت بلتستان کی تقدیرنہیں بدل سکتی ، بیس سال کاروڈمیپ بنایاجائے۔