امریکی حملوں کے بعد ایران کا خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف جوابی کارروائیوں کا دعویٰ
حالیہ اقدامات امریکی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے اور اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو مزید سخت جواب دیا جا سکتا ہے
امریکی حملوں کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کشیدگی میں مزید اضافے کا اشارہ دیا ہے۔
ایرانی فوجی قیادت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ اقدامات امریکی کارروائیوں کے ردعمل میں کیے گئے اور اگر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو مزید سخت جواب دیا جا سکتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق خطے میں موجود بعض امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران میں امریکی حملوں کے نتیجے میں مواصلاتی تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جس کے بعد دفاعی ردعمل کے طور پر مختلف مقامات پر کارروائیاں کی گئیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق بحرین میں موجود امریکی بحری تنصیبات، اردن کے ایک فوجی اڈے اور کویت میں واقع بعض عسکری مراکز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ بعض رپورٹس میں ڈرون اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے استعمال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
ادھر روسی ذرائع ابلاغ نے ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون کی تباہی کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
کویتی حکام کا کہنا ہے کہ ملکی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور فضائی حدود کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال انتہائی حساس ہو گئی ہے، جبکہ عالمی برادری تمام فریقین پر زور دے رہی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مزید تصادم سے گریز کریں تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔