بھارت دہشت گردی کی معاونت،پشت پناہی اور مالی معاونت میں ملوث ہے، پاکستان

پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں افغانستان سے سرگرم دہشت گرد عناصر کے خلاف تھیں

June 10, 2026 · اہم خبریں

 اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کی پالیسیاں خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردی کو فروغ دینے کا باعث بن رہی ہیں۔

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اجلاس میں کہا کہ بھارت دہشت گردی کی معاونت، پشت پناہی اور مالی معاونت میں ملوث ہے اور بعض گروہوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں افغانستان سے سرگرم دہشت گرد عناصر کے خلاف تھیں اور ان کا مقصد کسی بھی صورت میں افغان عوام کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ ان کے مطابق کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں، ڈرونز اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔

عاصم افتخار نے مزید کہا کہ پاکستان نے کسی شہری آبادی، اسپتال یا دیگر سول تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا اور تمام کارروائیاں پیشہ ورانہ اور محدود نوعیت کی تھیں۔

انہوں نے افغانستان میں بھارتی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات پر بڑھتی ہوئی عالمی توجہ بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔

پاکستانی مندوب نے بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے واقعات میں 1200 سے زائد پاکستانی شہید ہوئے، جو خطے میں سیکیورٹی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام نہ صرف خطے بلکہ پاکستان کے لیے بھی انتہائی اہم ہے، اور پائیدار امن کے لیے ایک مستحکم افغانستان ناگزیر ہے۔