ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ سخت حملے کرنے کا اعلان
ایران ہمیں مسلسل الجھا رہا ہے،ہم ایران سے معنی خیز اور کارآمد ڈیل کرنا چاہتے ہیں، صحافیوں سے گفتگو
فائل فوٹو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر آج دوبارہ سخت حملے کرنے کا اعلان کردیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ نے گذشتہ روز بھی ایران پر ایک ’سخت حملہ‘ کیا تھا اور ’ہم آج بھی ان پر سخت حملہ کریں گے اور پھر دیکھیں گے کہ معاہدے کا کیا ہوتا ہے۔‘
بدھ کو اوول آفس میں بات چیت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے قریب ہیں لیکن تہران حیل و حجت سے کام لے رہا ہے۔ وہ ہمیں بے قوم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ مجھے شرمندگی سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ماضی میں ان کا بےوقوف صدور سے پالا پڑتا رہا ہے۔
گفتگو کے دوران جب صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی بمباری کی مہم کو دوبارہ شروع کرنے والا ہے، تو انہوں نے اس کا اثبات میں جواب دیا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا ہاں، بالکل۔ ہیلی کاپٹر کے واقعے کے بعد، میرا خیال ہے کہ ہمیں ایسا کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ہمیں مسلسل الجھا رہا ہے، یہ نہیں بتاؤں گا کہ ایران کے پل اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنائیں گے یا نہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم ایران سے معنی خیز اور کارآمد ڈیل کرنا چاہتے ہیں، ایران کو ڈیل کرنا ہوگی۔ ایران سے معاہدے کے بارے میں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روکی تھی، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف اچھے دوست اور بہترین شخصیات ہیں، پاکستان اب بھی ایران کے معاملے پر کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔