امریکا ایران پر آئندہ چند گھنٹوں میں بڑا حملہ کرسکتا ہے، امریکی وزیر جنگ
اگر تہران نے واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کی طرف پیش رفت نہ کی تو اسے اہم فوجی تنصیبات پر حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران پر آئندہ چند گھنٹوں میں بڑا حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور اس کے لیے فیصلہ کن منصوبہ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔
فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر تہران نے واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کی طرف پیش رفت نہ کی تو اسے اہم فوجی تنصیبات پر حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر جنگ کا کہنا تھا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایران مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا، اور اگر معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی ناگزیر ہو سکتی ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا کہ ممکنہ امریکی حملے انتہائی طاقتور اور فیصلہ کن ہوں گے، تاہم انہوں نے ان اہداف کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال امریکی نگرانی میں ہے اور وہاں سے تیل کی ترسیل جاری ہے، تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
امریکی وزیر جنگ کے مطابق ایران کے پاس اب بھی سفارتی راستہ اختیار کرنے کا موقع موجود ہے، لیکن اگر اس نے سخت موقف برقرار رکھا تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔