ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے اقدامات تیز کر دیے
بعض زیرِ زمین سرنگوں کے داخلی راستوں کو مضبوط بنایا گیا ہے جبکہ کچھ مقامات پر اضافی حفاظتی انتظامات بھی کیے گئے ہیں
ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے دوران نئی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ اور محدود رسائی والے مقامات پر منتقل کرنے اور انہیں سربمہر کرنے کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران گزشتہ چند ہفتوں سے اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے تحفظ پر کام کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض زیرِ زمین سرنگوں کے داخلی راستوں کو مضبوط بنایا گیا ہے جبکہ کچھ مقامات پر اضافی حفاظتی انتظامات بھی کیے گئے ہیں، جس سے ان ذخائر تک رسائی پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس عمل کی تکمیل میں ایک ماہ یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مستقبل میں کسی معاہدے کے تحت یورینیم کے ذخائر کی منتقلی یا تلفی کا فیصلہ ہوتا ہے تو ان حفاظتی اقدامات کے باعث یہ عمل مزید پیچیدہ اور وقت طلب ہو سکتا ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات میں افزودہ یورینیم کے مستقبل کا معاملہ اہم موضوعات میں شامل ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق دونوں فریق ایک ایسے فریم ورک پر بات چیت کر رہے ہیں جس کے تحت ایران کے جوہری مواد کے حوالے سے نگرانی اور تصدیق کا نظام وضع کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب جوہری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زیرِ زمین محفوظ مقامات میں موجود مواد تک رسائی اور اس کی منتقلی کے لیے خصوصی تکنیکی اقدامات اور بھاری مشینری درکار ہو سکتی ہے، جس سے عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
تاحال ایران اور امریکا کی جانب سے ممکنہ معاہدے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید تکنیکی مذاکرات متوقع ہیں جن میں جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے ذخائر سے متعلق معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔