آزاد کشمیر کے سینئر وکلا بھی پرتشدد احتجاج کے خلاف میدان میں آگئے

ریاست میں امن و امان کو متاثر کرنے والے افراد کو قانون کے سامنے پیش ہونا چاہیے

June 13, 2026 · قومی

آزاد کشمیر میں جاری احتجاجی صورتحال کے حوالے سے وکلا برادری کے نمائندوں نے بھی اپنا مؤقف سامنے رکھتے ہوئے پرتشدد کارروائیوں اور قانون شکنی کی مخالفت کی ہے۔

آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجہ آفتاب احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ریاست میں امن و امان کو متاثر کرنے والے افراد کو قانون کے سامنے پیش ہونا چاہیے اور تمام معاملات آئینی و قانونی طریقہ کار کے تحت حل کیے جانے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، تشدد اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے جیسے اقدامات کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ افراد خود کو قانون کے حوالے کریں تو انہیں عدالتی کارروائی کے دوران قانونی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔

راجہ آفتاب احمد ایڈووکیٹ کے مطابق ریاستی اداروں کی عملداری کو چیلنج کرنے اور پرتشدد راستہ اختیار کرنے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، اس لیے تمام فریقین کو قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر مسائل کے حل کی کوشش کرنی چاہیے۔

قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اختلاف رائے اور احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم اس کے اظہار کے لیے پرامن اور قانونی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ عوامی مفاد، ریاستی استحکام اور امن و امان متاثر نہ ہوں۔

وکلا برادری کے بعض نمائندوں نے بھی زور دیا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات، قانون کی پاسداری اور پرامن رویہ ہی مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔