سندھ کا بجٹ پیش: کم از کم تنخواہ 43 ہزار مقرر، تنخواہوں، پنشن میں7 فیصد اضافہ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی تقریر کے آغاز پر اپوزیشن اور ایم کیو ایم اراکین کی جانب سے شور شرابہ اور احتجاج کیا گیا۔
وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ بجٹ پیش کر رہے ہیں
کراچی: وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ کا3 کھرب 56 ارب 20 کروڑ کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا
اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بھی بجٹ پر اظہارِ خیال کا موق
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مرحوم والدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں، مرحوم والدین کی دی ہوئی اقدار آج بھی میری رہنمائی کرتی ہیں۔ سندھ کے عوام کی خدمت کے سفر میں اہلِ خانہ کی قربانیوں اور تعاون کا شکر گزار ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت اور سماجی انصاف کی بنیادوں کو مضبوط کیا، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جرات اور قربانیاں آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی رہنمائی اور مستقل حمایت پر ان کا شکر گزار ہوں۔ چیئرمین بلاول کا عوام دوست ترقی اور سماجی انصاف کا وژن ہماری ترجیحات کا محور ہے۔ ہاریوں، محنت کشوں، خواتین اور نوجوانوں کی فلاح حکومت سندھ کے ترقیاتی ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے پاکستان کی بہادر مسلح افواج کو ان کی قربانیوں اور خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاک افواج وطن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضامن ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور اصولی سفارت کاری کی مضبوط آواز بن کر ابھرا ہے، ایران بحران کے دوران پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کیا۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ خطے میں امن اور مکالمے کا داعی ملک ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے باہمت اور ثابت قدم عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ نے آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت قومی استحکام کیلئے 260 ارب روپے کے انتظامات پر اتفاق کیا۔ 260 ارب کی قومی معاونت کے باوجود سندھ نے آئینی حقوق اور ترقیاتی ترجیحات کا تحفظ یقینی بنایا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ نے قومی مفاد میں کردار ادا کیا، این ایف سی ایوارڈ کے تحت اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا، سندھ کی عوام نے ہمیشہ ذمہ دار وفاقی اکائی ہونے کا ثبوت دیا۔ سندھ حکومت نے قومی ذمہ داری اور عوامی ترقی دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی مثال قائم کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے نئے مالی سال 27-2026 کا 3 کھرب 56 ارب 20 کروڑ کا بجٹ پیش کرتے ہوئے عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے اور پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا اور جبکہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2022ء اور 2025ء ضم کرنے کا اعلان بھی کردیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ سندھ میں کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے ماہانہ مقرر کر رہے ہیں۔
سید مراد علی شاہ نے کراچی میں ‘سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر’ بنانے کا اعلان کیا اور کہا کہ فنانشل سینٹر انفرااسٹرکچر فنانس، اسلامک فنانس اور کلائمیٹ فنانس کا پلیٹ فارم ہوگا۔
کراچی کو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بنا رہے ہیں، ڈیجیٹل سندھ وژن کے تحت گرین ڈیٹا انفرااسٹرکچر اور اے آئی اکانومی کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سندھ نے مالی سال 26-2026ء میں 900 ارب روپے سے زائد کی رکارڈ ترقیاتی سرمایہ کاری کی۔ ترقیاتی پروگرام کے تحت سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی کے منصوبے مکمل کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے 952 ترقیاتی اسکیمیں مکمل کر کے عملی ترقی کی نئی مثال قائم کی۔ 337 سڑکوں، 179 بلدیاتی، 175 پانی و نکاسی آب، درجنوں سماجی منصوبے مکمل کیے گئے۔ 900 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کے ثمرات سندھ کے ہر ضلع تک پہنچ رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کیساتھ تعاون میں ترقیاتی پورٹ فولیو 575 ارب سے کم کر کے 400 ارب روپے کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں کچرے سے ایندھن اور تجارتی مصنوعات بنانے کا ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام متعارف کروادیا گیا جبکہ چھوٹے کسانوں کیلئے خصوصی قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بجٹ تقریر کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ ہاریوں کو مشینری، مالیات، انشورنس اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال میں ریکارڈ 900 ارب روپے سے زائد ترقیاتی سرگرمیوں پرخرچ کیے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کیلئے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے تحت 10 لاکھ گھر مکمل کیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سولر پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلی نے عالمی سرمایہ کاری کیلئے ‘سندھ گرین ڈیٹا انفرااسٹرکچر انیشیٹو’ کے آغاز کا اعلان کیا اور کہا کہ عالمی معیار کے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری لائی جائے گی۔
عالمی تعاون سے 1.675 ارب ڈالر کی لاگت سے مزید 17 لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کے فنڈز حاصل کیے۔ مکانات کے منصوبے میں لاکھوں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دے کر بااختیار بنایا گیا۔
صحت کے شعبے میں این آئی سی وی ڈی، ایس آئی سی وی ڈی، ایس آئی یو ٹی اور جے پی ایم سی کی خدمات میں توسیع کردی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 1123 ٹیلی طبیب سروس اور 1122 ایمبولینس نیٹ ورک مزید مضبوط بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے تحت 1300 سے زائد اسکولوں کی عمارات تعمیر اور اساتذہ کی بھرتیاں کی گئیں۔ تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس کم کر کے 5 فیصد کردیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ، طبی عملہ خلوص اور لگن سے قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ تعلیم کے شعبے کےلیے 25.9 ارب روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاق کے ساتھ تعاون میں ترقیاتی پورٹ فولیو 575 ارب سے کم کر کے 400 ارب روپے کرنا پڑا۔ وفاق کےساتھ این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کےحصےکاتحفظ یقینی بنایا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سوشل پروٹیکشن پیکیج کیلئے 13.2 ارب روپےکی خطیر رقم مختص کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ سوشل پروٹیکشن میں کچن گارڈن، بےنظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں۔ سوشل پروٹیکشن پیکیج کے تحت بیواؤں اور یتیموں کے لیے بھی امدادی اسکیمیں جاری رہیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پوائنٹ آف سیل سے منسلک بیوٹی سیلونز اور اوورسیز ایمپلائمنٹ ریکروٹنگ ایجنسیوں کے لیے رعایتی ٹیکس برقرار ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ انشورنس ایجنٹس اور بروکرز پر لاگو ٹیکسز میں کمی کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ زرعی سپر ٹیکس کی استثنیٰ کی حد 150 ملین سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دی گئی۔ زرعی سپر ٹیکس کی شرح کو بھی 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا۔
کیٹی بندر کو پاکستان کا نیا گیٹ وے بنانے کا عزم
وزیراعلیٰ سندھ نے کیٹی بندر کو عالمی بحری، لاجسٹکس، انڈسٹریل اور توانائی مرکز بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پورٹ قاسم کی بنیاد رکھی۔
ان کا کہنا تھا کہ شہید بےنظیر کے وژن کے تحت اب چیئرمین بلاول کیٹی بندر کی نئی معاشی تقدیر رقم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پورٹ قاسم کے بعد کیٹی بندر سندھ کی معاشی ترقی کا اگلا عظیم سنگِ میل بننے جا رہا ہے، کیٹی بندر کے ذریعے پاکستان عالمی تجارتی راستوں سے مزید مضبوط انداز میں منسلک ہوگا۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کیٹی بندر منصوبہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اور تھر کے کوئلہ وسائل سے منسلک ہوگا۔ ہم کیٹی بندر کو پاکستان کا نیا معاشی اور بحری گیٹ وے بنائیں گے۔
شاہراہ بھٹو سندھ کی تاریخ کا سب سے بڑا شہری انفرا اسٹرکچر منصوبہ
ان کا کہنا تھا کہ شاہراہِ بھٹو سندھ کی تاریخ کا سب سے بڑا شہری انفرااسٹرکچر منصوبہ ہے۔
60.7 ارب روپےلاگت سے تعمیر شاہراہِ بھٹو عوام کےلیے بڑی سہولت ہے۔ شاہراہِ بھٹو کراچی کے ٹریفک نظام میں انقلابی تبدیلی کا باعث بن رہی ہے۔
شاہراہ بھٹو پہلا بڑا انفرا اسٹرکچر منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا گیا ہے۔ شاہراہِ بھٹو کی تعمیر سے سفر کا دورانیہ کم ہو کر تقریباً 25 منٹ رہ گیا ہے۔ شاہراہِ بھٹو روزانہ تقریباً 25 ہزار گاڑیوں کو سفری سہولت فراہم کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کا شور شرابہ اور واک آؤٹ
وزیراعلیٰ کی تقریر کے دوران اپویشن کی جانب سے بجٹ نامنظور کے نعرے لگائے گئے اور شور شرابہ کیا گیا۔
بعد ازاں اپوزیشن اراکین نے سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں سندھ سیف سٹیز پروگرام کے تحت 1325 اسمارٹ کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں اور شہر کا معاشی مستقبل مزید روشن بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔
مراد علی شاہ کے مطابق ترقیاتی پروگرام کے تحت سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں اور پانی کے منصوبوں سمیت 337 سڑکوں، 179 بلدیاتی منصوبوں اور 175 پانی و نکاسی آب کے منصوبوں کو مکمل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے تحت 10 لاکھ گھر مکمل کیے گئے جبکہ لاکھوں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دے کر بااختیار بنایا گیا۔
بجٹ اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے 121.6 ارب روپے، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں کے لیے 39.5 ارب روپے، تعلیم کے شعبے کے لیے 25.9 ارب روپے اور زراعت و لائیو اسٹاک کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 6.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ زرعی سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے جبکہ سوشل پروٹیکشن پروگراموں میں کچن گارڈن، بینظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں۔
تعلیم و صحت
سندھ حکومت نے رواں مالی سال تعلیم اور صحت کو سب سے زیادہ فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس سلسلے میں ترقیاتی پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے لیے 50.12 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جب کہ صحت کے شعبے کے لیے 38.89 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں متعدد جاری منصوبے بھی شامل ہیں۔
اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے لیے 38.21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ صوبے بھر میں کالجز، جامعات اور ٹیکنیکل تعلیم کے منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
دیگر شعبوں کا بجٹ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے منصوبوں کے لیے 9.22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ازیں ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 6.30 ارب روپے کی تجویز ہے۔ توانائی کے شعبے میں 5.18 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔
زراعت، سپلائی اینڈ پرائسز سیکٹر کے لیے 4.90 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ثقافت، سیاحت اور آثارِ قدیمہ کے منصوبوں کے لیے 2.78 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جب کہ جنگلات و جنگلی حیات کے شعبے کے لیے 2.39 ارب روپے کی تجویز ہے۔
ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کے منصوبوں کے لیے 54.1 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔ محکمہ خوراک کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 10.1 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
زراعت کے لیے 4.9 ارب روپے مختص
سندھ اے ڈی پی 2026-27 میں زراعت کے شعبے کے لیے 4.9 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ محکمہ زراعت، سپلائی اینڈ پرائسز کے لیے 4.899 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام منظور کرنے کی تجویز ہے جب کہ زرعی توسیع کے 9 منصوبوں کے لیے 65.67 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
زرعی مارکیٹنگ کے 3 منصوبوں کے لیے 1.319 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ زرعی میکانائزیشن کے 5 منصوبوں کے لیے 70.96 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ زرعی تحقیق کے لیے 25.52 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
اسی طرح ایگریکلچر واٹر مینجمنٹ کے 7 منصوبوں کے لیے 1.884 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ سپلائی، پرائسز، ویٹس اینڈ میژرز کے منصوبے کے لیے 3.07 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جب کہ زرعی تربیت و تحقیق کے منصوبے کے لیے 4.38 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
زراعت کے شعبے میں مجموعی طور پر 31 ترقیاتی اسکیمیں شامل ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے زرعی پیداوار، جدید مشینری، آبی نظم و نسق اور زرعی منڈیوں کی بہتری پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
کراچی کے میگا پراجیکٹس
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کے میگا پراجیکٹس کے لیے 14 ارب 11 کروڑ 63 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ کراچی کے 25 جاری میگا ترقیاتی منصوبوں کے لیے 14.11 ارب روپے کی تجویز بجٹ میں شامل ہے۔
اسی طرح کراچی کے 17 غیر منظور شدہ جاری منصوبوں کے لیے 6.94 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ کراچی کے 8 کیری فارورڈ منصوبوں کے لیے 7.17 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ کراچی میگا پراجیکٹس کا مجموعی تھرو فارورڈ حجم 35.81 ارب روپے ریکارڈ ہوا ہے۔
بجٹ میں ترقیاتی پروگرام 2026-27 میں کراچی کے انفرا اسٹرکچر منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ کراچی کے 25 میگا منصوبوں پر آئندہ مالی سال میں ترقیاتی کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور شہری سہولیات بہتر بنانے کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال میں 2026-27 میں کراچی کے میگا منصوبوں کے لیے 14.11 ارب روپے کی مجموعی تجویز منظور ہونے کا امکان ہے۔