امریکا ایران معاہدے پروزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث دستخط کر دیے
یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور اعتماد سازی کی ایک نئی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے ہیں۔
وزیر اعظم آفس کے مطابق اس معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں، جبکہ پاکستان نے ثالث ریاست کے طور پر اس کی توثیق کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ واشنگٹن اور تہران تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہو چکے ہیں، اور یہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھولنے اور امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قطر کے تعاون سے 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس پیش رفت کی یاد میں ایک باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا، جہاں تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی شروع ہوں گے۔
انہوں نے اس موقع پر امریکی، ایرانی اور ثالثی کردار ادا کرنے والی قیادت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور اعتماد سازی کی ایک نئی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔