عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر سہیل آفریدی نے 48 ارب خسارے کا بجٹ پیش کردیا

خیبرپختونخوا کا مجموعی بجٹ21 کھرب 70 ارب روپے، تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ

June 19, 2026 · اہم خبریں, قومی

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مالی سال 2026-27 کے لیے 21 کھرب 70 ارب روپے حجم کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا۔ حکومت نے بجٹ کو “خوشحال خیبرپختونخوا” کا نام دیا ہے، جبکہ گزشتہ چند برسوں کے برعکس اس بار 48 ارب روپے کے خسارے کا تخمینہ ظاہر کیا گیا ہے۔ بظاہر اس کی وجہ سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات کا نہ ہونا ہے۔ اس سے پہلے اطلاعات آئی تھیں کہ خیبرپختونخوا کو 100 ارب کا سرپلس ظاہر کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کی جا سکیں۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 524 ارب روپے مختص کیے ہیں، جس کے تحت 2 ہزار 765 ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ بجٹ میں صحت کے شعبے کو بھی نمایاں اہمیت دی گئی ہے، جہاں صحت کارڈ پلس پروگرام کے لیے 50 ارب روپے اور سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی شرح 2 فیصد سے کم کر کے 0.75 فیصد کر دی گئی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

تعلیم اور نوجوانوں کی فلاح کے لیے بھی متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ضم شدہ اضلاع میں ساڑھے 9 ارب روپے کی لاگت سے 72 چیف منسٹر ماڈل اسکول قائم کیے جائیں گے، جبکہ نوجوانوں کو بلا سود قرضوں اور الیکٹرک بائیکس و رکشہ اسکیم کے لیے ڈھائی ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

امن و امان کے شعبے کے لیے 191 ارب روپے رکھے گئے ہیں تاکہ صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبے کی اپنی ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن کا تخمینہ 182 ارب 40 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جبکہ وفاقی محاصل سے 15 کھرب 90 ارب روپے موصول ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں مالی سال 2025-26 کے بجٹ کا حجم 21 کھرب 19 ارب روپے تھا جس میں 157 ارب روپے سرپلس دکھایا گیا تھا، جبکہ مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں 100 ارب روپے سرپلس کا تخمینہ پیش کیا گیا تھا۔ اس کے برعکس نئے مالی سال کے بجٹ میں 48 ارب روپے خسارہ ظاہر کیا گیا ہے، جسے صوبائی حکومت نے عوامی فلاحی منصوبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرنے کی حکمت عملی قرار دیا ہے۔