چکوال میں سی سی فائرنگ سے جاں بحق حانیہ کے خاندان نے لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن سے لاتعلقی ظاہر کردی

پٹیشن عوامی مفاد میں دائر کی گئی تھی کیونکہ کیس کی نوعیت اسی کی متقاضی تھی: ایڈووکیٹ میاں آصف محمود

June 20, 2026 · قومی

چکوال میں فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والی 9 سالہ ہانیہ احمد کے خاندان نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر ایک پٹیشن سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، جس میں کیس کی تحقیقات کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

متوفیہ کے نانا ریٹائرڈ کرنل محمد خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ خاندان کا مذکورہ پٹیشن سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ درخواست گزار یا اس کے وکیل کو جانتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کیس کی پیروی کے لیے ایڈووکیٹ چوہدری جلیل الرحمان کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق خاندان اس وقت جاری تحقیقات کے عمل پر نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ حکام کی جانب سے شفاف اور غیر جانبدار تفتیش کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ چوہدری جلیل الرحمان کا کہنا تھا کہ حساس نوعیت کے مقدمات میں غیر متعلقہ قانونی درخواستیں اصل کیس پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو عوامی مفاد میں قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے، تاہم ایسے معاملات میں متاثرہ خاندان سے رابطہ ضروری ہوتا ہے۔

دوسری جانب پٹیشن دائر کرنے والے فریق کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست عوامی مفاد میں دائر کی گئی تھی اور اس کا مقصد تحقیقات کے عمل سے متعلق قانونی نکات عدالت کے سامنے رکھنا تھا۔

عدالت میں سماعت کے دوران متعلقہ حکام نے بتایا کہ مقدمے میں نامزد ملزم کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے معاملہ قانون کے مطابق متعلقہ اداروں کو بھجوا دیا۔

ادھر واقعے میں زخمی ہونے والے ہانیہ احمد کے والد اور بھائی کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے، تاہم اہل خانہ کے مطابق بعض زخمیوں کی مکمل صحت یابی میں مزید وقت درکار ہوگا۔

خاندان نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ انہیں اس مشکل وقت میں نجی زندگی اور سوگ کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔