جج کی نیت کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں،ہمیں بے ایمانی کے تاثر سے بچنا چاہیے،سپریم کورٹ
عدالت عظمیٰ میں نایاب عمرانی کی بہن صنم عمرانی کے قتل کیس میں گواہیوں کے ریکارڈ میں مبینہ غلطیوں سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی
:
اسلام آباد: سپریم کورٹ میں زیر سماعت ایک کیس کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جج کی نیت صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے، اس لیے عدالت کو اس طرف نہ لے جایا جائے کہ کسی پر بے ایمانی کا تاثر قائم ہو۔
عدالت عظمیٰ میں نایاب عمرانی کی بہن صنم عمرانی کے قتل کیس میں گواہیوں کے ریکارڈ میں مبینہ غلطیوں سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ اس دوران سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ریکارڈ درست کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم موصول ہونے کے دو ہفتوں کے اندر گواہیوں میں موجود غلطیاں درست کی جائیں۔
سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ آیا گواہیوں کی ریکارڈنگ مکمل ہو چکی ہے یا نہیں، جس پر وکلاء نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہائی کورٹ نے اس حوالے سے میمورنڈم جاری کرنے کی ہدایت دی ہے اور اس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عدالتی ریکارڈ کی درستگی ایک اہم قانونی ذمہ داری ہے اور اگر کسی مرحلے پر غلطی سامنے آ جائے تو اس کی تصحیح کی جانی چاہیے۔ فریقین کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں واقعے کی تاریخ بھی غلط درج ہوئی ہے اور جرح کو بھی درست طور پر ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
اس پر عدالت نے کہا کہ صرف وہی نکات اٹھائے جائیں جو گواہی کے ریکارڈ سے متعلق ہوں۔ سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے یہ بھی کہا کہ اگر عدالت بروقت ریکارڈ درست کر لیتی تو معاملہ سپریم کورٹ تک نہ پہنچتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کو آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت مکمل اختیارات حاصل ہیں اور وہ ریکارڈ کی درستگی کے لیے احکامات جاری کر سکتی ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کسی جج کی نیت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اس لیے اس معاملے کو اس رخ پر نہ لے جایا جائے کہ عدالت کو کسی پر بے ایمانی سے متعلق رائے دینا پڑے۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ریکارڈ کی درستگی کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔