2018 والی حکومت قانونی تھی تو ہماری بھی قانونی ہے:وزیراعظم
قومی اسمبلی میں خطاب، اپوزیشن کو تحمل کا مشورہ دیا گیا
آئندہ 60 روز میں تکنیکی معاملات پر گفتگو ہوگی،امید ہے ایم او یو کے تحت پائیدار امن ہوگا: شہباز شریف/ فائل فوٹو
وزیراعظم نے کہاہے کہ اگر 2018والی حکومت قانونی تھی تو ہماری بھی قانونی ہے۔انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ آج اختلافی معاملات پر بات نہ کی جائے کیونکہ ایرانی صدر کا دورہ ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے اور آج اختلافی معاملات پر بات کرنے کا دن نہیں کیونکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان تشریف لا رہے ہیں، ان کے استقبال کی تیاری کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ 60 روز میں تکنیکی معاملات پر گفتگو ہوگی اور امید ہے کہ ایم او یو کے تحت پائیدار امن قائم ہوگا،جس پر ایوان اور عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات کی تحقیقات کر لیں، اگر وہ قانونی حکومت ہے تو یہ بھی قانونی حکومت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا پنجاب کی ترقی پاکستان کی ترقی نہیں، اور جب تک چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں شامل نہیں ہوتے ملک ترقی نہیں کر سکتا۔