مالک کی اجازت کے بغیرکسی گھر پرٹاورنہیں لگے گا،وزارتِ قانون و انصاف
ٹیلی کام تنازعات پر فیصلہ متعلقہ حکومت 45 دن میں کرے گی
فائل فوٹو
وزارتِ قانون و انصاف نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026 میں شامل رائٹ آف وے شقوں کا جائزہ لینے کے لیے قائم کردہ کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ پیش کر دی ہے۔
وزارت کے مطابق کمیٹی نے بل میں شامل مجوزہ ترامیم اور رائٹ آف وے سے متعلق موجودہ قانونی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ متعدد اجلاسوں اور غور و خوض کے بعد کمیٹی نے رائے دی کہ بل کا بنیادی مقصد ملک میں ڈیجیٹل رابطہ سہولت کو بہتر بنانا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، تاہم بعض شقوں کی زبان میں مزید وضاحت ضروری ہے تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نجی جائیداد کے معاملے میں مالک کی رضامندی اور باہمی معاہدہ بنیادی شرط ہوگی۔ کسی نجی فرد یا نجی قانونی ادارے کی زمین، عمارت، جائیداد یا اثاثے کے استعمال یا رسائی سے متعلق کوئی قدم مالک کی رضامندی اور باہمی معاہدے کے بغیر نہیں اٹھایا جائے گا۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ قانون کا اطلاق عوامی اداروں، وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے زیرِ ملکیت یا زیرِ انتظام زمین، عمارت، جائیداد اور اثاثوں کے ساتھ ساتھ منظم نجی رہائشی منصوبوں، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز اور اسی نوعیت کے اداروں پر واضح طور پر کیا جائے۔
کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ نجی زمین، نجی جائیداد، نجی افراد، کمپنیوں، کوآپریٹو سوسائٹیز اور مشترکہ ملکیت کے دیگر انتظامات کی تعریفیں قانون میں صاف اور واضح طور پر شامل کی جائیں تاکہ کسی بھی سطح پر غلط فہمی پیدا نہ ہو۔
رپورٹ کے مطابق زمین کے اوپر اور زیرِ زمین ٹیلی کام ڈھانچے، رائٹ آف وے اور متعلقہ آلات کے معاملات میں واضح فرق رکھا جائے گا اور ہر معاملے کے لیے الگ طریقہ کار مقرر کیا جائے گا۔
کسی لائسنس یافتہ ادارے اور عوامی ادارے، رہائشی منصوبے، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی یا اسی نوعیت کے ادارے کے درمیان تنازع پیدا ہونے کی صورت میں معاملہ متعلقہ حکومت کو بھیجا جائے گا، جو قانون کے مطابق 45 دن کے اندر فیصلہ کرے گی۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ متعلقہ حکومت کی رہنمائی کے لیے واضح اصول مقرر کیے جائیں تاکہ وہ کسی تجویز کی ضرورت، مناسب ہونے، عوامی مفاد اور قابلِ ادا معاوضے کا جائزہ لے سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکومت کے فیصلے سے متاثرہ شخص کو ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹربیونل سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہوگا۔