بھارت پاکستان میں امن سبوتاژ کرنے کے لیے پراکسی عناصر استعمال کر رہا ہے۔ وزیراعظم

قوم دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے متحد اور پُرعزم ہیں۔

June 27, 2026 · قومی

کراچی: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ کارروائیوں اور پراکسی عناصر کے استعمال میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، تاہم پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے متحد اور پُرعزم ہیں۔

پاکستان نیول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی نوعیت کے پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال مئی کی کشیدگی میں ناکامی کے بعد مشرقی ہمسایہ ملک پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کے لیے بالواسطہ اقدامات کر رہا ہے، جبکہ مغربی سرحد پر بھی بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا سکیورٹی فورسز مؤثر انداز میں مقابلہ کر رہی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تمام تنازعات کے حل کے لیے امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی پالیسی پر کاربند ہے اور کشمیریوں، غزہ کے عوام اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی صورتحال میں پاکستان نے ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کیا ہے، جس کا مظہر امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہیں۔

شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے میں امن اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ دورۂ پاکستان کو دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات اور خطے میں پاکستان کے مثبت کردار کا اعتراف قرار دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بدلتے علاقائی حالات کے تناظر میں سمندری سلامتی، آزادانہ جہاز رانی اور بحری راستوں کا تحفظ عالمی معیشت اور بین الاقوامی سپلائی چین کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پاکستان بحریہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، مضبوط اور مؤثر دفاعی قوت بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی۔

تقریب کے اختتام پر وزیراعظم نے پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کو مبارکباد دی اور کہا کہ وہ قوم کے دفاع کی اہم ذمہ داری سنبھالنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ترکیہ، بحرین، بنگلہ دیش، عراق، سری لنکا اور جبوتی سے آئے ہوئے زیرِ تربیت افسران کی موجودگی کو پاکستان کی دفاعی تربیت پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر قرار دیا۔