سرگودھا،زیادتی کی شکایت پر بچے کو زندہ دفن کر دیا گیا
بچے کو زندہ دفن کرنے والا مرکزی ملزم بھی گرفتار کرلیا گیا، گزشتہ روز دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔
سرگودھا ۔سرگودھا کے تھانہ جھال چکیاں میں انسانییت کو شرمسار کرنے والا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ مبینہ طور پر زیادتی کا شکار 14 سالہ معصوم بچے کو شکایت کرنے پر بااثر افراد نے زندہ دفن کرنے کی کوشش کی۔مقامی افراد نے بروقت بچے کو گڑھے سے نکال کر ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کر دیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق بچے نے کچھ عرصہ قبل بااثر افراد کی جانب سے زیادتی کا نشانہ بننے کی شکایت کی تھی۔ اس پر مشتعل ہو کر ملزمان نے بچے کو اغوا کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر اسے زندہ گڑھےمیں دفن کر دیا۔ تاہم مقامی لوگوں نے بچے کی چیخ و پکار سن کر موقع پر پہنچ کر اسے ریسکیو کیا۔گرفتاریاںپولیس نے اس وحشیانہ واقعے میں تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔مرکزی ملزم کو آج گرفتار کیا گیا جبکہ گزشتہ روز دو ملزمان کو حراست میں لیا گیا تھا۔
تمام ملزمان بااثر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف تھانہ جھال چکیاں میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔بچے کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ “ملزمان بااثر ہیں اور وہ صلح کرانے کے لیے شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔مجھے اور میری فیملی کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ میں انصاف چاہتا ہوں، میرا بیٹا آج بھی موت کے منہ سے واپس آیا ہے۔
ڈی ایچ کیو ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بچے کے جسم پر شدید چوٹوں کے نشانات ہیں اور وہ نفسیاتی صدمے کا شکار بھی ہے۔ ڈاکٹروں نے بچے کو زیر علاج رکھا ہوا ہے۔اس دل ہلا دینے والے واقعے نے پورے ضلع میں شدید غم و غصے کی لہر پیدا کر دی ہے۔شہریوں نے ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے یقین دلایا ہے کہ کسی بھی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر مکمل انصاف کیا جائے گا اور کوئی بھی ملزم کو بچنے نہیں دیا جائے گا۔واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں بچہ مٹی سے لتھڑا ہوا حالت میں دکھائی دے رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس معاملے کی نگرانی کر رہی ہیں۔مزید تفتیش جاری ہے۔