لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گر گئی، 14بچے ملبے تلے دب کر جاں بحق

6 بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے، ملبے میں مزید 10 سے 15 بچوں کی موجودگی کا خدشہ

June 30, 2026 · اہم خبریں, قومی
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گر گئی جہاں ملبے تلے دب کر 14 بچے جاں بحق،19زخمی ہوگئے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے6 بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے، ملبے میں مزید 10 سے 15 بچوں کی موجودگی کا خدشہ ہے۔ کاہنہ کے دیہاتی علاقے میں گھر میں کسی نے ٹیوشن سینٹر کھولا ہوا تھا، جہاں روزانہ 35 کے قریب بچے پڑھنے آتے تھے، اس گھر کی دھماکے سے چھت گرگئی جو کہ ٹی آر گارڈر کی بنی ہوئی تھی۔

محلے داروں نے فوری طور پر امدادی اداروں کو فون کیا، پولیس اور امدادی ادارے پہنچ گئے، ساتھ اہل محلہ بھی ہیں، فوری طور پر کئی بچوں کو نکال لیا گیا جبکہ بقیہ کی تلاش جاری ہے۔امدادی ادارے کے مطابق نکالے گئے بچوں کی سانسیں بند ہورہی تھیں امدادی کارکنان نے فوری طور پر بچوں کے منہ اور ناک سے مٹی نکالی تاکہ سانسیں بحال ہوسکیں اور انہیں ہسپتال روانہ کردیا۔ نکالے گئے کئی بچوں کی حالت نازک ہے, کئی زخمی ہیں، نکالے گئے کئی بچوں کی نبض بھی نہیں چل رہی تھی اس لیے ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ گھر کی چھت پر مٹی کی بھی بڑی مقدار موجود تھی، چھت گرنے پر بچے مٹی میں دب گئے۔

امدادی ادارے کے مطابق آپریشن ابھی جاری ہے فوری طور پر بچوں کی تعداد کا تعین نہیں ہوسکا، تاحال 20 بچے نکال لیے ہیں، ان کی مجموعی تعداد بیس سے پچیس کے درمیان ہوسکتی ہے جب کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں 35 بچے ٹیوشن پڑھنے آتے تھے۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ سات سے آٹھ بچوں کی حالت نازک ہے۔امدادی ادارے اوزاروں کے بجائے ہاتھوں سے مٹی ہٹانے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ پھنسے بچوں کو نقصان نہ پہنچے، آپریشن مکمل ہونے میں مزید ڈھائی سے تین گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ہسپتال ذرائع کا کہنا ہےکہ نکال گئے بیس میں سے 14 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ چھ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے تصدیق کی کہ ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ19  بچوں کو کاہنہ اسپتال لایا گیا، 5 زخمی بچے اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ترجمان ریسکیو پنجاب کا کہنا ہے کہ ریسکیو کو واقعہ کی اطلاع شام 4:45 بجے پر ملی تھی۔ زیادہ تر بچے کم عمر ہیں، بچے ملبے تلے دبے ہیں، دم گھٹنے سے ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔